.

مقبوضہ کشمیر: مسلح حملے میں 8 بھارتی فوجی ہلاک

لشکر طیبہ نے بھارتی فورسز کے قافلے پر حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیر انتظام ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلح حریت پسندوں کے ایک شاہراہ پر بھارت فورسز کے قافلے پر حملے میں آٹھ فوجی ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز پر حالیہ برسوں میں یہ سب سے جان لیوا حملہ ہے۔بھارتی پیراملٹری فورس کے ایک افسر کے کے شرما نے بتایا ہے کہ فوجیوں کی جوابی فائرنگ سے دو حملہ آور بھی مارے گئے ہیں جبکہ دو مشتبہ باغی بھارتی فوجیوں کی بس پر فائرنگ کے بعد کار میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

بھارت کی سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے سینیر افسر نالین پربھت نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ مسلح باغیوں نے ریاست کے گرمائی دارالحکومت سری نگر کے نواح میں ریزرو پولیس فورس کے چھے گاڑیوں پر مشتمل قافلے میں سے ایک بس پر حملہ کیا تھا۔

ان کی اندھا دھند فائرنگ سے آٹھ فوجی ہلاک اور بیس پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔انھیں سری نگر کے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ان میں سے تین کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔شرما کا کہنا ہے کہ حملہ آور ایک کار میں سوار تھے اور انھوں نے آتے ہی قافلے پر فائرنگ شروع کردی۔

مقبوضہ کشمیر میں برسرپیکار جہادی گروپ لشکر طیبہ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے اور کہا ہے کہ دو مزاحمت کار فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے ہیں۔ لشکر طیبہ نے مقامی میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلح مزاحمت کاروں اور بھارتی فورسز کے درمیان ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا تھا۔

یادرہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں 1989ء سے کشمیری حریت پسند مکمل آزادی یا پھر پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے قابض بھارتی فوج کے خلاف مسلح جدوجہد کررہے ہیں۔اس دوران تشدد کے واقعات میں ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں یا غائب کردیے گئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی حریت پسند تنظیموں کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق بھارتی فوج کی کارروائیوں میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد شہید ہوچکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ گذشتہ ستائیس سال کے دوران مقبوضہ وادی میں دس ہزار سے زیادہ افراد غائب کردیے گئے ہیں اور وہاں چھے ہزار سے زیادہ بے نامی قبریں برآمد ہوئی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں کوجعلی مقابلوں میں ہلاک کرنے کے بعد انھیں ان قبروں میں پیوند خاک کر دیا تھا۔