.

’ایران بدستور بلیک لسٹ ممالک کی فہرست میں شامل‘

انسداد منی لانڈرنگ گروپ نے تہران کوخطرناک ملک قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

منی لانڈرنگ کی عالمی سطح پر روک تھام کے لیے سرگرم ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت کی طرف سے معاہدوں اور یقین دہانیوں کے باوجود تہران سرکار اب بھی دہشت گردوں کی معاونت اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم میں ملوث ہے جس کے باعث ایران کو ابھی تک بلیک لسٹ ممالک کی فہرست میں شامل رکھا گیا ہے۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق انسداد بدعنوانی عالمی گروپ کے پیرس میں قائم صدر دفتر سے جمعہ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی گروپ کی جانب سے گذشتہ 12 مہینوں میں بعض قانونی کارروائیوں کو منسوخ کیاہے مگر اس کے باوجود ایران کا شمار انتہائی خطرناک ممالک میں ہوتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انسداد منی لانڈرنگ گروپ تہران کی جانب سے ریاستی سطح پر کالے دھن کو سفید کرنے، منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی کارروائیوں کو مانیٹر کررہا ہے۔

گروپ نے عالمی مالیاتی اداروں، تنظیموں، کمپنیوں اورشخصیات پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ لین دین میں نہایت احتیاط سے کام لیں اور کسی قسم کی تجارتی سرگرمی میں ایران کو شامل کرنے سے قبل تہران کی خلاف قانون کارروائیوں کی جانچ پڑتال کریں۔

خیال رہے کہ عالمی انسداد منی لانڈرنگ گروپ میں کی خلاف قانون کارروائیوں کی جانچ پڑتال کریں۔

خیال رہے کہ عالمی انسداد منی لانڈرنگ گروپ میں 37 ممالک شامل ہیں۔