.

''برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج،مذاکرات آغاز کیے جائیں''

برطانیہ میں دوسرے ریفرینڈم کے انعقاد کے لیے 10 لاکھ سے زیادہ افراد کے دستخط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی نے کہا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاء کے لیے جلد سے جلد مذاکرات شروع کیے جائیں جبکہ برطانیہ میں دس لاکھ سے زیادہ افراد نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں یورپی یونین میں رہنے یا رہنے کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک اور ریفرینڈم کے انعقاد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ فرینک والٹر اسٹینمیئر کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے بانی ممالک برطانیہ کے تنظیم سے اخراج کا عمل جلد پایہ تکمیل کو پہنچانے کے خواہاں ہیں تاکہ بلاک کی سرگرمیوں کو تعطل کا شکار ہونے سے بچایا جاسکے۔

جرمن وزیر خارجہ نے یورپی یونین کے چھے بانی رکن ممالک کے ایک اجلاس کی دارالحکومت برلن میں میزبانی کی ہے۔ان کا کہناہے کہ ان کے درمیان اس بات میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ برطانیہ کو تنظیم سے انخلاء کے لیے پیچیدہ طریق کار کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ از خود ہی الگ ہوجانا چاہیے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں مارک آریو نے بھی یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر برطانیہ کے اخراج کی شرائط وضع کرے اور مشترکہ مفاد میں اس سلسلے میں مذاکرات جلد مکمل ہونے چاہییں۔واضح رہے کہ جرمنی ،فرانس ،اٹلی ،نیدرلینڈز ،بیلجیئم اور لکسمبرگ یورپی یونین کے بانی ارکان ہیں۔

ایک نئے ریفرینڈم کے لیے پٹیشن

جمعرات کو منعقدہ ریفرینڈم میں یورپی یونین کے برطانیہ سے انخلاء کے حامی جیت گئے ہیں اور ان کی جیت نے پورے یورپی بلاک میں ایک بھونچال برپا کردیا ہے۔اب برطانیہ میں ایک نئی دستخط مہم جاری ہے۔اس میں برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے یا اخراج کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک نئے ریفرینڈم کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس پٹیشن کے دستخط کنندگان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک نئے قاعدے پر عمل درآمد کرے جس کی رو سے اگر کل ڈالے گئے ووٹوں کی شرح 75 فی صد میں سے تنظیم سے انخلاء یا رہنے کے حق میں ووٹوں کی شرح 60 فی صد سے کم ہو تو پھر ایک اور ریفرینڈم ہونا چاہیے۔جمعرات کو منعقدہ بریگزٹ ریفرینڈم کی شرح 72.2 فی صد رہی تھی۔

ہفتے کے روز گرینچ معیاری وقت کے مطابق 1000 جی ایم ٹی تک 10 لاکھ 40 ہزار افراد نے برطانوی حکومت اور پارلیمان کی سرکاری ویب سائٹ پر اس پٹیشن پر دستخط کردیے ہیں۔واضح رہے کہ برطانوی پارلیمان (دارالعوام) میں کسی مسئلے پر بحث کے لیے صرف ایک لاکھ دستخط درکار ہوتے ہیں اور ان دستخطوں کی تعداد اس سے دس گنا زیادہ ہوچکی ہے۔

دارالعوام کی پٹیشنز کمیٹی کا آیندہ اجلاس منگل کو ہوگا اور اس میں اس مسئلے کو ایوان میں اٹھانے یا نہ اٹھانے کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔جمعے کو اس پٹیشن پر دستخط کرنے والوں کے رش کی وجہ سے ایک وقت میں دارالعوام کی ویب سائٹ بیٹھ گئی تھی۔دارالعوام کی خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ اس طرح کسی ایک پٹیشن پر اتنی زیادہ تعداد میں دستخط کرنے والوں کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔

بریگزٹ ریفرینڈم کے حق میں 51.9 فی صد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا اور 48.1 فی صد نے اس کی مخالفت کی تھی اور برطانیہ کی یورپی یونین سے ساٹھ سالہ رفاقت برقرار رکھنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔اس ریفرینڈم کے نتائج سے برطانیہ میں نوجوانوں اور بوڑھوں ،شمال اور جنوب،شہروں اور دیہی علاقوں اور جامعات کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور معمولی پڑھے لکھے افراد میں بھی ایک واضح تقسیم نظر آئی ہے۔

مذکورہ نئی پٹیشن پر دستخط کرنے والوں کی اکثریتی کا تعلق برطانیہ کے بڑے شہروں سے ہے۔ان میں لندن سرفہرست ہے۔اس کےباسیوں نے الگ سے بھی ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں اور میئر صادق خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دارالحکومت کو برطانیہ سے آزاد قراردیں اور یورپی یونین میں شمولیت کے لیے درخواست دائر کریں۔