.

یمنی فوج اور حوثیوں میں لڑائی میں شدت ،41 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مختلف علاقوں میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز اور حوثی شیعہ باغیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے اور تازہ جھڑپوں میں اکتالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے جنوبی صوبے لحج میں واقع العند ائیربیس کی جانب پیش قدمی کی ہے۔حوثیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز نے لہج اور صوبہ تعز کے درمیان سرحد پر واقع علاقے قبیتہ پر قبضہ کر لیا ہے۔

لحج اور تعز کے درمیان واقع ایک اور علاقے وضیہ کی جانب حوثیوں کی پیش قدمی کے دوران جھڑپوں میں پانچ باغی اور تین سرکاری فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔تعز میں باغیوں نے فوج کے ایک اڈے پر حملہ کیا ہے اور اس میں چھے فوجی مارے گئے ہیں۔

ادھر دارالحکومت صنعا کے شمال مشرق میں واقع نہم میں حوثی باغیوں نے صدر منصورہادی کے وفادار فوجیوں پر حملہ کیا ہے اور وہاں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران جھڑپوں میں نو باغی اور سات فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ثالثی میں یمن میں 11 اپریل سے جنگ بندی جاری ہے لیکن اس کے باوجود متحارب فورسز میں جھڑپیں جاری ہیں۔اس جنگ بندی کے بعد ہی کویت میں امن مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی تھی مگر دو ماہ سے جاری ان مذاکرات میں بحران کے حل کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون ہفتے کی شام کویت پہنچے تھے۔ان کے اس دورے کا مقصد یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے نمائندوں سے مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کے لیے بات چیت کرنا ہے۔امیر کویت شیخ صباح الاحمد الصباح بھی دونوں فریقوں پر مذاکرات جاری رکھنے پر زور دے چکے ہیں۔