.

یونان: مصری نوجوان کی شادی پر 50 لاکھ یورو خرچ ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یونان کے ایک اخبار کے مطابق مصری ارب پتی نوجوان تاجر کریم حامد الشیتی اور برازیل کی سپر ماڈل کی شادی کی تقریب آئندہ ماہ کے آغاز پر یونان کے جزیرے میکونوس میں منعقد ہو گی جس پر 50 لاکھ یورو کے قریب خرچ ہوں گے۔

اخبار کے مطابق 8 اور 9 جولائی کو ہونے والی تقریب میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے 400 سے زیادہ مہمان نجی طیاروں اور پرتعیش سمندی کشتیوں کے ذریعے جزیرہ میکونوس پہنچیں گے۔ الشیتی خاندان ایک سیاحتی بحری جہاز کے ذریعے خاندان کے افراد کو مصر سے جزیرے منتقل کرے گا۔ اس کے بعد تمام مہمانوں کو بیش قیمت گاڑیوں میں ان ہوٹلوں اور بنگلوں تک پہنچایا جائے گا جہاں انہیں تقریب میں شرکت کے لیے قیام کرنا ہے۔ مہمانوں کی 24 گھنٹے خدمت اور تواضع کے لیے خصوصی ٹیمیں تیار کی گئی ہیں۔

اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ شادی کے تمام تر اخراجات دولہا کے گھر والے اٹھائیں گے۔ اس سلسلے میں مہمانوں کے لیے 20 سے زیادہ بنگلے فراہم کیے گئے ہیں اور مہمانوں کی حفاظت کے لیے 100 ذاتی محافظین کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

دولہا اور اس کا باپ کون ہے ؟

تقریب کے 28 سالہ دولہا کا نام کریم ہے جو اپنے والد حامد الشیتی کے ساتھ مل کر مصر اور مشرق وسطی کی ایک سب سے بڑی سیاحتی کمپنی چلاتا ہے۔

حامد الشیتی جن کی پیدائش مصر کے مغربی صوبے کی ہے ، شرم الشیخ ، مرسی علم اور الغردقہ میں 17 سیاحتی ہوٹلوں اور دنیا بھر میں 21 تیرتے ہوئے ہوٹلوں کے مالک ہیں۔ وہ بین الاقوامی اسفار اور دوروں کا انتظام کرنے والے سب سے بڑے تاجروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے 1979 میں اپنی کمپنی قائم کی جو مشرق وسطی میں سیاحت کی بڑی کمپنیوں میں شامل ہوگئی اور سالانہ 13 لاکھ کے قریب سیاحوں کو خدمات فراہم کرتی ہے۔

الشیتی دنیا بھر میں کئی مشہور ہوٹلوں کے مالک بھی ہیں۔ وہ بحر احمر کے سیاحتی کنارے پر خلیج مکادی اور شمالی ساحل پر خلیج الماظہ جیسے بڑے منصوبوں کو بھی چلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان ملکیت میں گاڑیوں اور بسوں کا ایک بڑا بیڑہ بھی ہے۔

حامد الشیتی اپنے اہل خانہ کے ساتھ یونان میں مقیم ہیں۔ وہ مصر میں 25 جنوری کے انقلاب کے بعد فرار ہو گئے تھے کیوں کہ ان کا نام مالی بدعنوانی کے متعدد کیسوں میں شامل تھا۔ یہ بات بھی زیر گردش رہی کہ وہ سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت اور ان کے بیٹے جمال سے بہت قریب تھے۔

اپریل 2012 میں مصر میں منصوبہ بندی اور بین الاقوامی تعاون کی وزیر فائزہ ابو النجا نے اعلان کیا تھا کہ کابینہ نے کاروباری شخصیت حامد الشیتی کے ساتھ مصالحت کی منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ الشیتی کی جانب سے اس امر کی آمادگی کے بعد کیا گیا کہ وہ حاصل کی گئی اراضی کی قیمتوں کا فرق ادا کر دیں گے، جس کی مالیت 2.5 کروڑ ڈالر بن رہی تھی۔