.

بحرین : شیخ عیسی قاسم مالی رقوم کی اسمگلنگ میں ملوث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کے اخبار "الایام" نے بعض خصوصی اور خفیہ دستاویزات شائع کی ہیں جن سے شیخ عیسی قاسم کا عراق اور ایران رقوم کی غیر قانونی درآمد اور برآمد میں ملوث ہونا ثابت ہوتا ہے۔ بحرین کی حکومت نے کچھ روز قبل عیسی قاسم کی بحرینی شہریت منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

الایام اخبار کو ملنے والی خصوصی معلومات کے مطابق اس سازش کے بہت سے مرحلے عیسی قاسم کے خصوصی دفتر "مكتب البيان" کی آڑ میں پورے ہوتے تھے۔ یہ دفتر بغیر اجازت قائم ہے اور ریاست کے قانونی فریم ورک سے باہر رہ کر کام کررہا ہے۔ اس دوران بعض ایسے کاغذات اور مالیاتی دستاویزات بھی برآمد ہوئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قاسم ریاست کے نظام اور قوانین سے چھپ کر 2009 سے ابھی تک مالی رقوم جمع کررہا تھا۔ اخبار کے مطابق اس سے تصدیق ہوجاتی ہے کہ ولایت فقیہ کی ریاست کے منصوبے پر عمل درامد کئی سالوں سے جاری تھا۔

شائع ہونے والی معلومات سے باور ہوتا ہے کہ قاسم مالی رقوم کو جمع کرنے اور ان کو غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنے کی کارروائیوں میں مذہبی مراکز سے فائدہ اٹھاتا تھا۔ یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ مذکورہ ترسیلات نقدی کی صورت میں ہوتی تھیں اور اس مقصد کے لیے مذہبی زیارت کے اسفار کا انتظام کرنے والے گروپوں اور بعض افراد کو استعمال کیا جاتا تھا۔

اہم معلومات کے ذریعے یہ بات بھی ظاہر ہوئی ہے کہ مکتب البیان کے ذریعے ایران اور عراق کی ہدایات ان متعدد سوسائٹیوں اور مراکز پہنچتی تھیں جن کے لیے قاسم کچھ عطیات فراہم کرتا تھا اور وہ پھر مطلوبہ ایجنڈوں پر عمل درامد کرتی تھیں۔

الایام اخبار کے خصوصی اور باخبر ذرائع کے مطابق ضبط کی جانے والی اشیاء سے ثابت ہوا ہے کہ "مکتب البیان" اور جمعیہ توعیہ اسلامیہ (Islamic Enlightenment Society) کے درمیان مضبوط مشتبہ مالی تعلق تھا۔ اس کے علاوہ مکتب البیان کے اندر سے جمعیہ توعیہ اسلامیہ کی خصوصی رسید کتابیں بھی برآمد ہوئی ہیں جن سے ایسا لگتا ہے کہ مکتب البیان درحقیقت سوسائٹی کی خفیہ شاخ کی حیثیت رکھتا تھا۔

رقوم کی اسمگلنگ اور دہشت گرد کارروائیاں

اس کے علاوہ ذرائع نے اس امر کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا کہ آنے والے دنوں میں تحقیقات کے ذریعے یہ بھی انکشاف ہوجائے گا کہ قاسم کی جانب سے کئی برسوں سے غیر قانونی طور پر جمع کی جانے والی رقوم اور ان کی اسمگلنگ کا بحرین میں کئی برسوں سے جاری دہشت گرد کارروائیوں سے کتنا گہرا تعلق ہے۔ ان کارروائیوں کو کرنے والوں کو مملکت میں امن و استحکام کو خراب کرنے کے لیے مالی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی گئی۔

یاد رہے کہ عیسی قاسم نے 1972 میں جمعیہ توعیہ اسلامیہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا۔ تعلیمی نوعیت کا شمار کر کے اس کا مقصد سوسائٹی کے ارکان یا اساتذہ اور طلبہ کو تربیت دینا بتایا گیا تھا۔ ادارے نے اپنا کام حزب الدعوہ الاسلامی (عراق) کے نہج پر مختلف ناموں سے جاری رکھا۔ اس دوران سیاسی تنظیموں کے علاوہ دیگر سوسائٹیوں اور تنظیموں کا بھی قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ تنظیمیں اور ادارے حزب الدعوہ الاسلامی کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ہونے والی سرگرمیوں کو ڈھانپنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔