.

سعودی نائب ولی عہد کی فرانسیسی صدر اولاند سے بات چیت

مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورت حال اور ایران کی خطے میں مداخلت پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے فرانسیسی صدر فرانسو اولاند سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ ، مشرق وسطیٰ کی تازہ صورت حال اور خطے میں ایران کی مداخلت کو روکنے کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی نائب ولی عہد امریکا کے دورے کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس پہنچے ہیں اور انھوں نے ایلزی پیلس میں فرانسیسی صدر سے کوئی ایک گھنٹے تک بات چیت کی ہے۔

بعد میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ایک نیوز بریفنگ میں بتایا ہے کہ فرانسیسی صدر نے اپنے ملک کی جانب سے سعودی مملکت کے ویژن 2030ء کے لیے حمایت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے پورے خطے پر اثرات مرتب ہوں گے۔

سعودی نائب ولی عہد کے اس دورے کے موقع پر سعودی عرب اور فرانس متعدد سمجھوتوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کریں گے۔پیرس میں متعی٘ن سعودی سفیر خالد العنقری کا کہنا ہے کہ اس دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی تعلقات کو فروغ ملے گا۔

انھوں نے کہا کہ فرانس اور سعودی عرب کے تعلقات باہمی مفاد پر مبنی ہیں اور دونوں ممالک عالمی امور اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات ،عراق ،شام اور یمن کے بارے میں یکساں موقف کے حامل ہیں۔

سعودی نائب ولی عہد نے فرانسیسی صدر سے ملاقات کے بعد حکومت کے ہیڈکوارٹرز میں وزیراعظم مینول والس سے ملاقات کی ہے۔اس کے بعد وہ فرانسیسی وزیر دفاع ژاں وائی ویس لی دریان سے بات چیت کریں گے۔

اس موقع پر سعودی ،فرانس کاروباری مواقع فورم کا تیسرا اجلاس ہوگا۔اس فورم میں دونوں ممالک کی کاروباری شخصیات اور معاشی ماہرین شرکت کریں گے۔اس فورم کا مقصد دونوں ممالک میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔

واضح رہے کہ فرانس سعودی عرب میں سرمایہ کاری کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے اور وہ سعودی عرب سے تیل کا بڑا برآمد کنندہ ملک ہے۔ فرانسیسی وزیراعظم مینول والس نے گذشتہ سال اکتوبر میں سعودی عرب کے دورے کے موقع پر مختلف شعبوں میں دس ارب یورو (گیارہ ارب ڈالرز) کے معاہدوں اور سمجھوتوں کا اعلان کیا تھا۔تاہم ان میں سے بعض کو ابھی تک حتمی شکل نہیں دی جاسکی ہے۔