.

ایران مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کررہا ہے: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ایران کی مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے کوششوں پر انتباہ کیا ہے۔

پیرس میں منگل کے روز اپنے فرانسیسی ہم منصب ژاں مارک آیرو کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں انھوں نے کہا ہے:'' پوری دنیا یہ بات جانتی ہے کہ ایران ہمارے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے کام کررہا ہے''۔انھوں نے کہا کہ اگر ایران معمول کے تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے تو اس کو اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کا احترام کرنا چاہیے۔

عادل الجبیر نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی جانب سے ملک کے صدر کے انتخاب کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کی مذمت کی ہے۔واضح رہے کہ لبنان میں گذشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے صدر کا انتخاب عمل میں نہیں لایا جاسکا ہے اور وہاں حزب اللہ ہر مرتبہ نئے صدر کے انتخاب کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے۔فرانسیسی وزیر خارجہ نے نیوزکانفرنس میں کہا کہ وہ بہت جلد لبنان کے دورے پر جائیں گے۔

سعودی وزیر خارجہ نے فلسطینی تنازعے کے حل کے لیے عرب امن اقدام کا ذکر کرتے ہوئے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی اور انھیں جاری رکھنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔اس موقع پر انھوں نے فرانس کا مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے ملاقات میں شام میں جاری بحران پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے اور روس پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے اتحادی شامی صدر بشارالاسد پر باغیوں کے ٹھکانوں اور خاص طور پر حلب شہر پر بمباری رکوانے کے لیے دباؤ ڈالے۔

ژاں مارک آریرونے کہا کہ جنگ بندی سے ہی شام میں قیام امن اور بحران کے سیاسی حل کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹر عادل الجبیر نے واضح کیا کہ شامی صدر بشارالاسد کے بارے میں سعودی مملکت کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور انھیں اقتدار چھوڑنا ہوگا۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے ویژن 2030 کو سراہا اور کہا کہ اس سے مملکت کی مستقبل میں کامیابی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔قبل ازیں فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات میں اپنے ملک کی جانب سے سعودی مملکت کے ویژن 2030ء کے لیے حمایت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے پورے خطے پر اثرات مرتب ہوں گے۔