.

حزب اللہ کے لئے ایرانی امداد پر امریکا کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے لبنانی ملیشیا کے لئے ایران کی مسلسل سپورٹ پر وارننگ جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ"حزب اللہ کی مالی معاونت فوری طور پر بند کی جائے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ایران دہشت گردی کے لئے مالی معاونت کر رہا ہے۔ نیز ہمیں حزب اللہ کو ایران سے ملنے والی مالی مدد کا بھی مکمل علم ہے، اسی لئے امریکا نے اس پر سخت مالی پابندیاں لگائیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ایران اس معاملے میں اپنے ملوث ہونے کا خود بھی اداراک کرے۔"

یہ انتباہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان ایرک شالز کی جانب سے 'العربیہ' کی نامہ نگار کے اس سوال کے جواب میں سامنے آیا جس میں ان سے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے اس بیان پر تبصرہ چاہا گیا تھا کہ "حزب اللہ کو اسلحہ سمیت مال پانی تک ایران سے ملتا ہے۔"

وائٹ ہاؤس ترجمان نے ایران کی بین الاقوامی منڈی اور بینکاری نظام تک رسائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ادارے اور بینک ایران کی جانب سے مسلسل دہشت گردی کی سپورٹ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں حزب اللہ کے لئے ایرانی امداد کا بھی علم ہے۔ ہم تہران کو ان باتوں پر خبردار کرتے ہوئے اس کے مضمرات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ ایرک شالز کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست سے لین دین کو کبھی پسند نہیں کریں گے۔ "ہمارا ایران سے مطالبہ ہے کہ وہ حزب اللہ اور دہشت گردی کی مالی امداد بند کریں کیونکہ یہ بات صرف عالمی سلامتی کے لئے ہی ضروری نہیں ہے بلکہ ایسا کرنا خود ایران کے مفاد میں نہیں۔"

ترجمان نے کہا کہ انہیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ حزب اللہ کو بینکوں کے علاوہ لیکوڈیٹی کی صورت میں مالی امداد دی جا سکتی ہے۔ امریکا، ایسا کرنے سے روکنے کی خاطر تمام وسائل بشمول سزائیں بروئے کار لائے گا جن میں حزب اللہ کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں ڈالنا شامل ہے۔

مسٹر شارلز نے کہا کہ 'حزب اللہ کی مدد کرنے والے مالیاتی اداروں اور سہولت کار تاجروں اور شخصیات پر ہماری پابندیوں کا سلسلہ انتہائی مؤثر نتائج سامنے لا رہا ہے۔ سزاؤں کے نظام سے ایک ایسی فضا پیدا ہو گئی ہے کہ جس سے یہ تاثر راسخ ہو چکا ہے کہ حزب اللہ سے مالیاتی تعاون کرنے والی کوئی بھی تنظیم پابندیوں کا نشانہ بن سکتی ہے۔"

انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ اگر ایران نے حزب اللہ کے لئے مالی امداد جاری رکھی تو تنظیم دہشت گردی کرتی رہے گی۔ اس لئے امریکا چاہتا ہے کہ ایران بین الاقوامی بیکنگ سسٹم تک رسائی سے قبل دہشت گردی اور حزب اللہ کی امداد کا سلسلہ بند کرے۔