.

دیار بکر: بم حملے میں ترک افسر ہلاک ،کرد باغیوں پر الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے جنوب مشرقی صوبے دیار بکر میں ایک بم دھماکے میں ایک پولیس افسر ہلاک اور سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ علاقے کے سب سے بڑے شہر دیار بکر کے شمال میں واقع ضلع دیچل میں منگل کے روز ایک اسپتال کے نزدیک پولیس کی بکتر بند گاڑی کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے۔بم دھماکے میں دو پولیس افسر شدید زخمی ہوگئے تھے۔ان میں ایک اسپتال میں اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا ہے۔حملے میں چھے شہری زخمی ہوئے ہیں اور وہ بھی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے علاحدگی پسند کرد باغیوں کی جماعت کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) پر اس بم حملے کا الزام عاید کیا ہے اور بتایا ہے کہ دھماکے سے متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

دریں اثناء ترک فوج نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس نے عراق کے شمال میں واقع قندیل کے پہاڑی سلسلے میں پی کے کے کے ٹھکانوں ،غاروں اور ہتھیاروں کی ذخیرہ گاہوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔قندیل کے پہاڑوں میں کرد باغیوں کی قیادت نے اپنے خفیہ ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔تاہم ترک فوج نے ان فضائی حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی ہے۔

ترک فوج گذشتہ سال جولائی میں حکومت اور کرد باغیوں کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے عراق کے شمال میں واقع پہاڑی علاقوں میں اس کالعدم گروپ کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی حملے کررہی ہے۔کرد باغیوں نے شمالی عراق سے سرحد پار ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

ترک سکیورٹی فورسز نے جولائی 2015ء میں حکومت اور کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے درمیان دوسالہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے قریباً چھے ہزار کرد جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔اس عرصے کے دوران ملک کے جنوب مشرق میں واقع کرد اکثریتی علاقوں میں کرد باغیوں کے حملوں اور جھڑپوں میں کم سے کم چار سو فوجی ،پولیس افسر اور دیہی محافظ ہلاک ہوچکے ہیں۔