.

سعودی عدالت سے شام میں دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو سزا

ملزمان پر شام میں جنگجوؤں کے لیے اسٹوڈیو کے قیام میں معاونت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں فوجی نوعیت کے مقدمات نمٹانے والی عدالت نے دو ملزمان کو تکفیری منہج اختیار کرنے، قرآن وسنت کی مخالفت، دہشت گردی کی مدد کے لیے شام کے سفر اور دہشت گردوں کو ویڈیوز کی تیاری میں اسٹوڈیو کے ذریعے مدد فراہم کرنے کے الزامات میں قید اور رجمانہ کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق استغاثہ کی جانب سے عدالت کو ٹھوس ثبوت کی روشنی میں بتایا گیا کہ ایک ملزم نے سعودی عرب سے شام میں ایک دوسرے مشتبہ جنگجو کو 60 ہزار ریال کی رقوم بھجوائی تھی۔

ایک دوسری دستاویز کے مطابق ملزم نے ایک شخص سے 2500 ریال وصول کیے۔ اپنے ایک اقارب کو 8 ہزار 500 ریال کی رقم اسے شام میں جنگجوؤں میں شمولیت کے لیے سفری اخراجات کے طور پر دی تھی۔

اس کےعلاوہ ملزمان پر ایک الزام یہ ہے کہ انہوں نے شام میں جنگجوؤں کو اسٹوڈیو کے قیام میں انہیں کیمروں کی خریداری میں بھی مدد دی تھی۔ انہوں نے سعودی عرب سے 36 ہزار ریال مالیت کے کیمرے اور ان کا متعلقہ سامان ایک شخص کو خرید کر شام پہنچانے کے لیے دیا اور اس کی ذمہ داری لگائی کہ وہ ان کیمروں کو شام میں دو جنگجوؤں تک پہنچائے گا۔ اسی طرح انہوں نے شام میں ایک شخص کے کہنے پر چار ہزار ریال مالیت کا ایک لیپ ٹاپ بھی اسے خرید کر بھیجا تھا۔ دہشت گردوں کی جانب سے مالی مدد کے مطالبے کے بعد ان میں سے ایک ملزم نے دس ہزار ریال بھجوائے۔

جنگجوؤں کی مدد کے لیے ایک ملین ریال

عدالت میں پیش کردہ ثبوت میں پراسیکیوٹر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے سعودی عرب میں ایک غیرقانونی تنظیم قائم کرنے کے بعد شام میں دہشت گردوں کے لیے ایک ملین ریال کی رقم جمع کی تھی۔ ان میں سے ایک نے شام میں شام میں عسکری تربیتی مراکز میں شرکت کرنے کے لیے یہاں سے لوگوں کو بھیجنے کی کوشش کی۔

ایک ملزم نے خود بھی شام میں جنگجو گروپوں میں شمولیت کے لیے سفر کی کوشش کی تھی۔ ان ملزمان کے شام میں موجود عسکری گروپوں کے ساتھ روابطہ قائم تھے۔ انہوں نے مجموعی طورپر سعودی عرب سے چار افراد کو شام بھجوانے میں ان کی مالی مدد کی۔

سعودی عرب کی بدنامی

شدت پسندوں کی جانب سے سعودی عرب کے پاسپورٹ کو دہشت گردی کے مقاصد کے لیے سفر کی خاطر استعمال کرکے مملکت کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی۔

پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے پاسپورٹس کو جنگی مقاصد کے سفرکے لیے استعمال کرکے نہ صرف پاسپورٹ کا غلط استعمال کیا گیا بلکہ سعودی عرب کو بدنام کیا گیا۔ شدت پسندوں کی جانب سے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹویٹر‘ پر اکاؤنٹ کھولنے کے بعد شام میں جنگ کے لیے ابلاغی مہم چلائی گئی۔ جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کے سیکیورٹی اداروں کو دھمکیاں دی گئی اور گرفتار اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

قید اور سفری پابندی کی سزا

عدالت کی جانب سے ایک ملز کو 12 سال قید اور رہائی کے بعد اتنے ہی عرصے تک بیرون ملک سفر پرپابندی کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہزار ریال جرمانہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے قبضے سے برآمد ہونے والی 26 ہزار 655 ریال کی رقم، لیپ ٹاپ کمپیوٹر، سی ڈیز اور دیگر اشیا بحق سرکار ضبط کرنے کاحکم دیا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ دوسرے ملزم کا شام میں موجود اپنے بھائی سے ’واٹ ایپ‘کے ذریعے رابطہ قائم رہا ہے،جہاں سے وہ جنگجوؤں کے بارے میں انہیں خبریں مہیا کرتا رہا ہے۔ سعودی ملزمان نے مقامی سطح پر بھی ’حرکت فجر والمھاجرین‘ نامی گروپ کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کی مہم چلا رکھی تھی۔ سعودی عرب سے ملزم کی جانب سے شام میں موجود ابو مجاھد نامی جنگجو کو 60 ہزار کی رقم بھجوائی اور اسے اپنے بھائی تک پہنچانے کی تاکید کی تھی۔

ملزمان کی جانب سے شام میں اسٹوڈیو کے قیام میں معاونت کے لیے کیمرے اور ان کا متعلقہ سامان بھی بھجوانے کی کوشش کی تھی۔ عدالت نے دوسرے ملزم کو دس ماہ قید اور رہائی کے بعد اتنا ہی عرصہ بیرون ملک سفر پر پابندی کی سزا کا حکم دیا ہے۔