.

عراقی سرحد کے نزدیک جھڑپیں، 11 کرد باغی ،3 ایرانی محافظ ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے عراق کی سرحد کے نزدیک واقع صوبے کردستان میں جھڑپوں میں گیارہ کرد باغی اور پاسداران انقلاب کے تین اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

صوبہ کردستان میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل محمد حسین رجبی نے بتایا ہے کہ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی ایران (کے ڈی پی آئی) سے وابستہ گیارہ انقلاب مخالف جنگجو ملک میں دراندازی کی کوشش کررہے تھے۔انھیں سرو آباد کے علاقے میں مسلسل دس روز تک پیچھا کرنے کے بعد ہلاک کردیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کردوں کے ساتھ جھڑپوں میں پاسداران انقلاب کے تین اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ان ہلاکتوں کی منگل کو اطلاع دی گئی ہے۔اس سے قبل اتوار کو ایرانی حکام نے اسی علاقے میں پانچ باغیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی تھی۔اب یہ واضح نہیں ہے کہ وہ پانچ افراد کسی اور واقعے میں مارے گئے تھے یا وہ بھی ان گیارہ ہلاکتوں میں شامل ہیں۔

پاسداران انقلاب کی بری افواج کے کمانڈر جنرل محمد پاک پور نے اتوار کو سرحد پار شمالی عراق میں باغیوں کے ٹھکانوں پر حملوں کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ اگر دہشت گردوں نے اپنی کارروائیاں نہ روکیں تو ان پر حملے کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ کے ڈی پی آئی ایران کی سب سے قدیم کرد جماعت ہے اور یہ 1945ء میں قائم کی گئی تھی۔اس نے ایران میں 1979ء میں انقلاب کے بعد اسلامی حکومت کے کردوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردعمل میں مسلح بغاوت کردی تھی اور صوبے کی آزادی کا مطالبہ کیا تھا۔ایرانی کرد باغیوں نے بھی عراق کے شمالی علاقوں میں اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں اور وہ وہاں سے گاہے گاہے ایرانی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔