.

استنبول ہوائی اڈے پر خودکش بم دھماکے، 41 ہلاکتیں، 239 زخمی

میاں نواز شریف کی استنبول میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت ،انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق منگل کی شب استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے پر خودکش بم دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میں 41 افراد جاں بحق اور 239 زخمی ہوئے ہیں، جن میں متعدد کی حالت نازک ہے۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے بدھ کو ایک بیان میں دہشت گردی کے اس حملے میں ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ابتدائی اشاروں سے لگتا ہے عراق اور شام میں برسر پیکار داعش کا استنبول کے ہوائی اڈے پر خودکش بم حملوں میں ہاتھ کارفرما ہے۔

تفصیلات کے مطابق دھماکے اتاترک ہوائی اڈے کے بین الاقوامی ٹرمینل کے داخلی دروازے کے سامنے پارکنگ ایریا کی فٹ پاتھ پر ہوئے۔ دھماکوں کے وقت ہوائی اڈے پر مسافروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ استنبول کا اتاترک بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایشیا اور یورپ سے آنے والی پروازوں کا ہمیشہ رش رہتا ہے۔ حملہ آوروں نے سکینگ مشین میں گزرنے سے پہلے خود کو دھماکے اڑایا۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک رکن اسمبلی کے مطابق دھماکے چار مسلح افراد نے کیے۔ان میں دو خودکش بمبار تھے۔ دو حملہ آور دھماکوں کے بعد فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔

ہوائی اڈے کے ایک سینئر اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ اتاترک ہوائی اڈے سے روانہ ہونے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور مسافروں کو ہوٹلوں میں ٹھرایا جا رہا ہے، تاہم اسے سے پہلے واضح نہیں تھا کہ کونسی پروازیں منسوخ کی جا رہی ہیں اور علی الصباح پہنچنے والی کونسی پروازوں کو دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب موڑا جا رہا ہے۔

دھماکوں کے وقت جو پروازیں اتاترک ائرپورٹ کنٹرول ٹاور کے رابطے میں تھیں، انہیں واقعے کے باوجود اترنے کی اجازت دے دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو لینے کے لئے آنے والوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

درایں اثنا امریکا نے ترکی میں ان بم دھماکوں کی تحقیقات میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ امریکی صدر براک اوباما کو استنبول دھماکوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ادھر لندن میں زیر علاج پاکستانی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اتاترک ہوائی اڈے پر خودکش بم حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ترک عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔