.

افغانستان : طالبان کے دو خودکش بم دھماکے، 27 پولیس کیڈٹس ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے نواحی علاقے میں طالبان کے دو خودکش بمباروں نے پولیس کے تین گاڑیوں کے قافلے کو اپنے حملے میں نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں ستائیس پولیس کیڈٹس ہلاک اور کم سے کم چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔

ایک پولیس افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ طالبان حملہ آوروں نے صوبہ وردک سے دارالحکومت کابل کی جانب آنے والی تین بسوں کے نزدیک خود کو دھماکوں سے اڑایا ہے۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے ابتدائی اطلاعات کے حوالے سے ستائیس افراد کی ہلاکت اور چالیس کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس کیڈٹس حال ہی میں تربیتی اکیڈیمی سے پاس آؤٹ ہوئے تھے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان نے اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ پہلے خودکش بم حملے میں پولیس کیڈٹس اور ان کے انسٹرکٹروں کی بس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔پھر جب رضاکار اور ایمرجنسی سروسز کے اہلکار وہاں امدادی سرگرمیوں کے لیے پہنچے تو دوسرے خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار کو ان کے درمیان دھماکے سے اڑا دیا جس سے دسیوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

طالبان نے اپنے نئے امیر ملّا ہیبت اللہ اخونزادہ کی قیادت میں مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف حملے جاری رکھنے کا ا علان کررکھا ہے۔ملّا ہیبت اللہ کو ان کے پیش رو ملّا اختر منصور کی گذشتہ ماہ پاکستان کے سرحدی علاقے میں امریکا کے ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد طالبان کا امیر منتخب کیا گیا تھا۔

دس روز قبل کابل میں کینیڈین سفارت خانے کے نیپالی سکیورٹی محافظوں کی بس پر اسی انداز میں حملہ کیا گیا تھا۔اس بم دھماکے میں چودہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اپریل میں سکیورٹی سروسز کی ایک تنصیب پر طالبان کے خودکش بم دھماکے میں چونسٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔افغانستان میں 2011ء کے بعد یہ سب سے تباہ کن بم دھماکا تھا۔