.

اقوام متحدہ کا ''نقشہ راہ'' یمن کے متحارب فریقوں کے حوالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی اسماعیل ولد شیخ احمد نے جنگ زدہ ملک میں تنازعے کے حل کے لیے متحارب فریقوں کو ایک نقشہ راہ (روڈ میپ) پیش کر دیا ہے۔اس میں یمن میں قومی اتحاد کی نئی حکومت کے قیام اور جامع سیاسی مذاکرات کے عمل سے متعلق تفصیل درج ہے۔

اسماعیل ولد شیخ احمد نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ آیندہ دو ہفتے متحارب فریقوں اور ان کی قیادت سے مذاکرات کے لیے وقف ہوں گے۔انھوں نے گذشتہ روز کویت میں یمنی فریقوں کے درمیان جاری مذاکرات میں دو ہفتے کے وقفے کا اعلان کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ متحارب فریق اب 15 جولائی کو کویت لوٹیں گے اور پھر مذاکرات کے نئے دور کا آغاز کریں گے۔واضح رہے کہ کویت میں یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے وفد کے درمیان 21 اپریل سے مذاکرات جاری تھے۔

ان مذاکرات میں یمن میں جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے تو کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی ہے لیکن اسماعیل ولد شیخ احمد کا کہنا ہے کہ ان میں اہم متنازعہ امور کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور یمن میں جنگ سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد مہیا کرنے کے سلسلے میں بڑی تبدیلی اور بہتری آئی ہے۔

انھوں نے متحارب فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو رعایتیں دیں تاکہ تنازعے کے حل کی راہ ہموار ہوسکے۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ متحارب فریقوں نے امن کمیٹی کو سعودی عرب کے جنوبی شہر دہران میں منتقل کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے گذشتہ اتوار کو کویت میں مذاکرات میں شریک یمنی حکومت اور حوثی ملیشیا کے وفود سے ملاقات کی تھی اور ان پر زوردیا تھا کہ وہ تنازعے کے حل کے لیے عالمی ایلچی کے پیش کردہ نقشہ راہ کو قبول کر لیں۔