.

ترکی نے لڑاکا جیٹ مارگرانے پر ''سوری'' کہہ دیا: ولادی میر پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

زندگی کی طرح سیاست میں بھی ''سوری'' (معذرت) ایک بہت مشکل لفظ ہے اور روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ ترکی نے جمعرات کو گذشتہ سال نومبر میں ایک روسی جنگی طیارہ مار گرانے پر معذرت (معافی؟) کر لی ہے۔

لیکن انقرہ میں حکام نے ان کے اس بیان کی تائید نہیں کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے طیارہ مارگرانے پر صرف افسوس کا اظہار کیا ہے لیکن معافی یا معذرت کا لفظ استعمال نہیں کیا ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتین اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن نے بدھ کے روز ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔24 نومبر کو شامی سرحد کے نزدیک روسی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد دونوں لیڈروں کے درمیان یہ پہلا براہ راست رابطہ تھا۔اس واقعے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سخت کشیدگی پیدا ہو گئی تھی اور روس نے ترکی کے خلاف اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں اور اپنے شہریوں کے ترکی جانے پر بھی پابندی عاید کر دی تھی اور پروازیں منسوخ کر دی تھیں۔

صدر ولادی میر پوتین نے صدر ایردوآن سے فون پر گفتگو کے بعد کہا ہے کہ وہ روسی سیاحوں کے ترکی جانے پر عاید سفری پابندیاں ختم کردیں گے۔ترک صدر نے اس ٹیلی فون کال کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ''دونوں لیڈر رابطے میں رہیں گے اور دوطرفہ تعلقات کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف مل جل کر جنگ کے لیے بالمشافہ ملاقات کریں گے''۔

اس فون کال سے قبل ترک صدر نے سوموار کو صدر پوتین کے نام ایک خط بھیجا تھا۔ماسکو کا کہنا تھا کہ اس میں لڑاکا طیارے کو مار گرائے جانے پر معذرت کی گئی ہے جبکہ انقرہ کا کہنا تھا کہ صدر ایردوآن نے خط میں واقعے پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور طیارے کو مار گرائے جانے پر واضح طور پر معذرت نہیں کی تھی۔

انقرہ میں متعیّن روسی سفیر آندرے کارلوف نے کہا ہے کہ ماسکو دونوں ملکوں کے درمیان مکمل تعلقات کی بحالی سے قبل انقرہ سے روسی جیٹ کو مار گرائے جانے پر معاوضہ دینے کی توقع کرتا ہے۔

کارلوف نے روس کی انٹرفیکس نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ولادی میر ولادی میرووچ تعلقات کی بحالی کے لیے ہماری تین شرائط واضح کرچکے ہیں اور وہ یہ کہ معافی مانگی جائے ،طیارہ مار گرانے کے ذمے داروں کو سزا دی جائے اور معاوضہ دیا جائے۔پہلی شرط پوری ہوگئی ہے اب ہم دوسری اور تیسری شرط کے پورا ہونے کے منتظر ہیں۔