.

فوجی سامان کی خریداری کے لیے امریکا کا عراق کو قرض

دو ارب 70 کروڑ ڈالر قرض کی ساڑھے آٹھ سال میں واپسی ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکومت نے عراق کی اپنی کٹھ پتلی حکومت کو جنگی سازو سامان، اسلحہ، جنگی طیاروں اور ٹینکوں کی خریداری کی مد میں دو ارب 70 کروڑ ڈالر کی رقم بہ طور قرض دینے کا اعلان کیا ہے۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق عراق اور امریکا کے درمیان کل بدھ کے روز قرض کے حصول کے ایک معاہدے پر دستخط ہوئے۔ معاہدے کے تحت بغداد کو ملنے والی رقم سے شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف جاری جنگ کے لیے جنگی ساز وسامان خرید کیا جائے گا۔

بغداد میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ قرض کے حصول کے معاہدے پر عراقی وزیرخزانہ ہوشیار زیباری اور امریکی سفیر اسٹیوارٹ جونز نے دستخط کیے ہیں۔

امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ قرض کی رقم سے عراقی حکومت اسلحہ، ایف سولہ طیارے اور ابرامز ٹینکوں کی خریداری کرکے داعش مخالف جنگ میں اہم کردار ادا کرسکے گا۔

معاہدے کے تحت بغداد حکومت ساڑھے آٹھ سال بعد قرض کی واپسی یقینی بنائے گی۔ یہ معاہدے واشنگٹن کی جانب سے بغداد کی داعش کے خلاف جنگ میں مالی معاونت کے وعدوں پر عمل درآمد کا حصہ ہے۔ امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بغداد کے ساتھ مزید مالی تعاون کرنے اور قرض کی شکل میں اس کی مدد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی کمی کے نتیجے میں عراق کو بھی سنگین مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مالیاتی بحران نے عراق کی دشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی صلاحیت پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔