.

''استنبول میں روسی ،ازبک اور کرغز بمباروں نے حملے کیے''

استنبول سے 3غیرملکیوں سمیت 11 مشتبہ افراد اور ازمیر سے داعش کے 9 حامی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے اتاترک بین الاقوامی ہوائی اڈے پر منگل کی شب داعش کے تین غیرملکی خودکش بمباروں نے بندوق اور بم حملے کیے تھے اور ان تینوں کا تعلق روس ، ازبکستان اور کرغیزستان سے تھا۔

یورپ کے اس تیسرے مصروف ائیر پورٹ کے باہر ان حملہ آوروں نے پہلے فائرنگ کی تھی۔پھر ان میں سے دو ٹرمینل کی عمارت میں گھس گئے تھے اور انھوں نے وہاں خود کو دھماکوں سے اڑا دیا تھا۔تیسرے بمبار نے داخلی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑایا تھا۔ان دھماکوں میں تینتالیس افراد ہلاک اور دو سو انتالیس زخمی ہوگئے تھے۔

ایک ترک عہدے دار نے جمعرات کے روز ان تینوں حملہ آوروں کی قومیت کی تصدیق کی ہے لیکن ان کے نام ظاہر نہیں کیے کیونکہ ابھی ابتدائی تحقیقات کی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔ایک اور ترک عہدے دار کا کہنا ہے کہ ایک میڈیکل ٹیم حملہ آوروں کی شناخت کا عمل مکمل کرنے کے لیے دن رات کام کرر ہی ہے۔

ترک حکومت کے حامی اخبار ینی سفاک نے لکھا ہے کہ روسی بمبار کا تعلق ریاست داغستان سے تھا۔اس ریاست کی سرحد مسلم اکثریتی چیچنیا سے ملتی ہے جہاں 1991ء میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد روسی فوج علاحدگی پسندوں اور مسلم جہادیوں کے خلاف دو جنگیں لڑ چکی ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ اس حملے کا منتظم احمد شیتیوف نامی ایک چیچن نژاد شخص تھا۔اس جنگجو کا نام اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔اس کی شناخت میں یہ لکھا ہے کہ وہ داعش کا روسی زبان بولنے والے جنگجوؤں کی تربیت کا ذمے دار ہے اور وہ روسی حکام کو بھی مطلوب ہے۔

ترک اخبار حریت نے ایک حملہ آور کی شناخت عثمان ویدینوف کے نام سے کی ہے۔وہ بھی چیچن ہے اور شام میں داعش کے دارالحکومت الرقہ سے آیا تھا۔تاہم ترک حکام نے اس امر کی تصدیق نہیں کی ہے کہ داعش کے یہ دونوں جنگجو بھی تحقیقات کا حصہ ہیں یا نہیں۔

کرغیز سکیورٹی سروس نے فوری طور پر اپنے ملک سے تعلق رکھنے والے خودکش بمبار کے حوالے سے کچھ کہنے سے گریز کیا ہے جبکہ ازبک سکیورٹی سروس سے اس معاملے پر گفتگو کے لیے فوری طور پر کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔

ترک پولیس نے استنبول میں منگل کی شب خودکش بم حملوں کے بعد چھاپا مار کارروائیوں میں تیرہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ان میں تین غیر ملکی ہیں۔خصوصی پولیس فورس کی قیادت میں انسداد دہشت گردی کی ٹیموں نے شہر میں بیک وقت سولہ مقامات پر چھاپا مار کارروائیاں کی ہیں۔

درایں اثناء برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے بتایا ہے کہ ازمیر کے چار علاقوں سے جمعرات کی صبح چھاپا مار کارروائیوں میں نو مشتبہ جنگجوؤًں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔یہ تمام جنگجو شام میں داعش کے ارکان سے رابطے میں تھے۔ان پر داعش کے لیے جنگجو بھرتی کرنے،ان کے لیے رقوم کا بندوبست کرنے اور لاجسٹیکل مدد دینے کا الزام ہے۔