.

''ترکی نے یورپ میں بغیر ویزا سفر کے لیے تمام تقاضے پورے کردیے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے یورپی امور کے انچارج وزیر عمر چیلک نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے اپنے شہریوں کے یورپ بھر میں بغیر ویزا سفر کے لیے تمام احتیاجات پوری کردی ہیں جبکہ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس نے ابھی تک ذاتی ڈیٹا اور دہشت گردی سے متعلق شرائط کو پورا نہیں کیا ہے۔

عمر چیلک نے یہ بات وزیر خارجہ مولود شاوس اوغلو کے ساتھ برسلز میں یورپی یونین سے مذاکرات سے قبل نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔ترک وزراء یورپی یونین کے ساتھ اپنے شہریوں کے یورپ میں بغیر ویزا رسائی کے کے لیے باب 33 کے تحت بات چیت شروع کررہے ہیں۔

مولود شاوس اوغلو نے سی این این ترک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''یہ ترکی کے لیے اہم ہے کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو تیز کرے''۔ابھی یورپی یونین اور ترکی کے درمیان انسداد دہشت گردی قوانین پر اختلاف پائے جاتے ہیں اور یورپ کو یہ اعتراض ہے کہ ترکی کے یہ قوانین بہت وسیع تر ہیں۔

ترکی اور یورپی یونین کے درمیان شامی مہاجرین کی آبادکاری، ترکی کے راستے یورپ جانے والے غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی سے متعلق 18 مارچ کو معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے تحت ترکی کی علاقائی حدود سے تنظیم کے رکن ممالک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے شامیوں اور دوسرے افراد کو ترکی میں واپس بھیجا جائے گا۔اس کے بدلے میں ترک شہریوں کو اکتوبر 2016ء سے یورپی ممالک میں بغیر ویزا سفر کی اجازت ہوگی۔

وزیر عمر چیلک نے قبل ازیں کہا تھا کہ ترکی تمام معیار پر پورا اترتا ہے اور اب ایسی کسی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ جس سے ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صلاحیت متاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔واضح رہے کہ ترکی کی جانب سے تمام شرائط پوری ہونے کے بعد یورپی پارلیمان معاہدے کی منظوری دے گی اور پھر اس پر عمل درآمد کی نوبت آئے گی۔اب باب 33 کے تحت برسلز میں بات چیت ترکی کی یورپ میں رسائی کے عمل کو آگے بڑھانے کی جانب اہم قدم ہے۔