.

بوگس تنخواہ اسکینڈل ایرانی بنک سربراہان کی ملازمتیں لے ڈوبا

بنک سربراہان کی ماہانہ تنخواہیں مروجہ اجرت سے 50 گنا زیادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں کرپشن اور چور بازاری کے چونکا دینے والے اسکینڈل کے سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ضمن میں ایک تازہ اسکینڈل بوگس تنخواہوں کی وصولی کا ہے جس نے اب تک کم سے کم تین اہم بنک سربراہان کو ان کی ملازمت سے محروم کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں اس اسکینڈل پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ جن بنک سربراہان کو نوکریوں سے فارغ کیا گیا ہے ان پر حکومتی عہدیداروں کے نام پر جعلی اور بوکس تنخواہیں جاری کرنے اور خود بھاری تنخواہیں وصول کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

ایران کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق بوگس تخواہوں کے اسکینڈل نے ایران میں اصلاح پسندوں اور بنیاد پرست طبقات میں ایک نئی کشمکش بپا کردی ہے۔ اصلاح پسند کرپشن اور مبینہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں میں ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جب کہ حکومت نواز عناصر اپنی ماتحت اشرافیہ کو بچانے کے لیے کوشاں ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’ایسنا‘ کی رپورٹ کے مطابق بوگس تنخواہیں جاری کرنے کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد تین بنکوں "صادرات" کے ڈائریکٹر اسماعیل اللھنگانی، "قرض حسنہ مہر" بنک کے سربراہ سیامک دولتی اور "ملت" بنک کے علی رستگار کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان تینوں بنک سربرہان پر جعلی سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی مد میں رقوم جاری کرنے اور خود بھی بھاری مشاہرے وصول کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

اس سے قبل ایران کے رفاہ بنک کے ڈائریکٹر علی صدقی کو بھی بھاری معاوضہ وصول کرنے کے الزام میں نوکری سے نکالا جا چکا ہے۔ صدقی پر الزام تھا کہ وہ ماہانہ 70 ہزار ڈالر کے مساوی تنخواہ وصول کرتے رہے ہیں۔

ایران میں حسن روحانی کے صدر بننے کے بعد کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا گیا تو بنیاد پرست ان کی راہ میں حائل ہوگئے۔ مگر ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بدستور آتی رہی ہیں کہ بعض سرکاری ملازمین معمول کی اجرت سے دسیوں گنا اضافی تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض پر 700 سے 800 ملین ایرانی ریال یعنی20 سے 23 ہزار ڈالر کے مساوی تنخواہیں بٹورتے ہیں۔

اصلاح پسند مبصرین کا خیال ہے کہ چونکہ بوگس تنخواہوں کے اجراء کا سلسلہ موجودہ صدر کے دور میں جاری ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنیاد پرست عناصر بوگس تنخواہوں کے اسکینڈل کو اگلی بار ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر حسن روحانی کے خلاف بہ طور چارج شیٹ استعمال کریں گے۔

اصلاح پسند رہ نما علی ناصری کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کے شدت پسند حریفوں نے بوگس تنخواہوں کی 3000 رسیدیں حاصل کرلی ہیں اور وہ انہیں آئندہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوران حسن روحانی کے خلاف استعمال کرتے ہوئے ظاہر کریں گے۔