.

ڈھاکا ریستوران پر داعش کا حملہ: 20 یرغمالی افراد ہلاک

تمام پاکستانی محفوظ ہیں: اسلام آباد دفتر خارجہ کے ترجمان کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش کے ڈیپلومیٹک اینکلیو کے ایک ریستوران پر مسلح شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں 20 یرغمالی ہلاک ہو گئے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے 6 حملہ آوروں کو بھی ہلاک کردیا۔ داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے 24 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' نے بنگلہ دیشی فوج کے بریگیڈیئر جنرل نعیم اشرف چوہدری کے حوالے سے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کو بے دردی سے تیز دھار آلے کی مدد سے قتل کیا گیا۔

جنرل نعیم چوہدری نے مزید بتایا کہ ریسٹورنٹ پرحملے کے بعد یرغمال بنائے گئے 13 افراد کو بازیاب کرا لیا گیا جن میں ایک جاپانی اور دو سری لنکن شہری شامل تھے۔

اس سے قبل بنگلہ دیشی فوج کے ترجمان کرنل راشد الحق نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ 'آپریشن ختم ہو گیا اور صورتحال مکمل طور پر کنٹرول ہے۔'

واضح رہے دارالحکومت ڈھاکا کے سفارتی علاقے کے مشہور ریسٹورنٹ پر رات گئے مسلح افراد نے حملہ کرکے وہاں موجود لوگوں کو یرغمال بنالیا تھا، جس کے بعد پولیس نے کیفے میں یرغمالیوں کو بازیاب کرانے کے لیے آپریشن شروع کیا۔

حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے ریسٹورنٹ اور علاقے کا محاصرہ کرلیا، جس کے بعد حملہ آوروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا، اس دوران حملہ آوروں نے سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب بم بھی پھینکے۔ سیکیورٹی حکام نے صورتحال کے پیش نظر میڈیا کو براہ راست کوریج سے روک دیا تھا۔

بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے ریسٹورنٹ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ اپنے نشری خطاب میں شیخ حسینہ واجد نے کہا 'یہ کس قسم کے مسلمان ہیں؟ ان کا کوئی مذہب نہیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کو ان دہشت گردوں کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے اور اُن کی حکومت بنگلہ دیش سے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

درایں اثنا پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ڈھاکا میں تمام پاکستانی سفارت کار اور ان کے اہلخانہ محفوظ ہیں۔ ان کا کہنا تھا، 'ہم پاکستانی سفارتی عملے سے رابطے میں ہیں اور وہ سب محفوظ ہیں'۔

انھوں نے مزید کہا کہ ڈھاکا کے ریسٹورنٹ پر حملے کے بعد پاکستان کے سفارتی عملے نے اپنی نقل و حرکت محدود کردی ہے۔ نفیس ذکریا نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ 'ریسٹورنٹ میں یرغمال بنائے گئے افراد میں کوئی پاکستانی شامل نہیں ہے'۔