سعودی عرب کے سوا کہیں سے وسائل نہیں ملے: بان کی مون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے باور کرایا ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی تنظیم کے وسائل کو ہنگامی طور پر پورا کرنے کی ضرورت ہے بالخصوص اس سلسلے میں بین الاقوامی حکمت عملیوں پر عمل درامد کے حوالے سے۔

بان کی مون نے زور دے کر کہا سعودی عرب کے سوا کسی جانب سے اقوام متحدہ کو قابل ذکر وسائل پیش نہیں کیے گئے۔

بان کی مون کا کہنا ہے کہ " ایسے میں جب کہ انسداد دہشت گردی کی عالمی حکمت عملی پر عمل درامد کی پہلی ذمہ داری رکن ممالک کی ہے ، اقوام متحدہ اپنے ارکان کو مضبوط سپورٹ اور تعاون فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اگر ہم زمینی حقائق کے طور پر بھرپور اور مستقل انداز سے اثر انداز ہونا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اس کے لیے لازمی وسائل کو پورا کرنے کی فوری ضرورت ہو گی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ " ایسے وقت میں جب کہ طلب میں کئی ُگنا اضافہ ہو چکا ہے، سعودی عرب کی جانب سے فراخ دلی کے ساتھ عطیات کے سوا اقوام متحدہ کو کوئی قابل ذکر نئے وسائل پیش نہیں کیے گئے"۔

ادھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے انسداد دہشت گردی سے متعلق اقوام متحدہ کی بین الاقوامی حکمت عملی پر نظرثانی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ جنرل اسمبلی ہر دو سال بعد حکمت عملی پر نظرثانی کرتی ہے۔

مذکورہ اجلاس حکمت عملی کے دس سال پورا ہونے پر منعقد کیا گیا جب کہ عالمی دہشت گردی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ حکمت عملی پر عمل درامد کی ذمہ داری رکن ممالک کے کاندھوں پر عائد ہوتی ہے جب کہ اس حکمت عملی کے نفاذ کا مکلف ورکنگ گروپ، اقوام متحدہ کی جانب سے رکن ممالک کی ضروریات اور انہیں لازمی سپورٹ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں