لیبی فورسز کی سرت میں داعش کے خلاف لڑائی میں پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لیبیا کے وسطی شہر سرت میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ آزما مصراتہ فورسز نے ایک کانفرنس ہال کا محاصرہ کر لیا ہے۔لیبیا کے ایک سینیر عہدے دار نے بتایا ہے کہ داعش سے جھڑپوں میں حکومت نواز فورسز کے تین جنگجو ہلاک اور تیس سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت کے تحت فورسز نے دو ماہ قبل سرت کو داعش سے بازیاب کرانے کے لیے مہم کا آغاز کیا تھا۔انھوں نے جمعے کو شدید لڑائی کے بعد داعش کے جنگجوؤں کو سرت کے ایک رہائشی علاقے سے نکال باہر کیا ہے۔

لیبی فورسز کے کمانڈروں نے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجو اب کانفرنس کمپلیکس اور ایک اسپتال کے نزدیکی علاقے میں رہ گئے ہیں۔لیبی فورسز نے ان دونوں جگہوں کا محاصرہ کررکھا ہے جبکہ داعش کے جنگجو ان پر گھات لگا کر فائرنگ کر رہے ہیں اور انھوں نے بارودی سرنگ بھی بچھا رکھی ہیں جس کی وجہ سے سرکاری فورسز کی پیش قدمی سست روی کا شکار ہے۔

سرت میں داعش کے خلاف اس کارروائی میں ساحلی شہر مصراتہ سے تعلق رکھنے والی فورسز ہراول دستے کا کردار ادا کررہی ہیں اور وہ داعش کے خلاف فضائی حملے بھی کررہی ہیں۔مصراتہ فورسز کے ایک کمانڈر نے بتایا ہے کہ انھوں نے ایک مکان پر حملہ کیا ہے،اس میں داعش کے متعدد کمانڈر چھپے ہوئے تھے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا کتنا جانی نقصان ہوا ہے۔

مصراتہ فورسز دارالحکومت طرابلس میں اقوام متحدہ کی ثالثی کے نتیجے میں قائم ہونے والے وزیراعظم فائزالسراج کی قیادت میں قومی اتحاد کی حکومت کی حمایت کررہی ہیں۔یہ حکومت طرابلس میں فجر لیبیا اور مشرقی شہر طبرق میں قائم وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت کی جگہ لے گی لیکن ابھی تک اس کی تمام ملک میں عمل داری قائم نہیں ہوسکی ہے۔

مصراتہ فورسز نے گذشتہ ہفتوں کے دوران میں سابق صدر معمر قذافی کے آبائی شہر سرت میں داعش کے خلاف لڑائی میں نمایاں پیش قدمی کی ہے اور اگر یہاں اس جنگجو گروپ کو شکست ہوجاتی ہے تو یہ اس کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگی کیونکہ اس جنگجو گروپ کو عراق اور شام میں حالیہ ہفتوں کے دوران بڑی ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔عراق میں فلوجہ میں داعش شکست سے دوچار ہوئے ہیں اور شام میں بھی انھیں پسپائی کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں