امریکا: مسجد کے باہر مسلمان شہری پربہیمانہ تشدد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا کی ریاست فلوریڈا کی مقامی مسجد کے باہر ایک مسلمان شہری کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ فلوریڈا پولیس کے مطابق مسلمان نوجوان پر تشدد کے مرتکب ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے۔

خیال رہے کہ ریاست فلوریڈا میں دو ہفتے قبل عمر متین نامی ایک افغان نژاد شہری نے نائیٹ کلب میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں کم سے کم 49 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

خبر رساں اداروں نے مطابق ریاست فلوریڈا کے سانٹ لوسی کے علاقے کے پولیس چیف کین ماسکارا نے بتایا کہ انہیں مقامی وقت کے مطابق علی الصباح 4 بج کر گیارہ منٹ پر ایک مسلمان شہری پر تشدد کے واقعے کی اطلاع دی گئی۔ یہ واقعہ فورٹ پیرس اسلامی سینٹر کے باہر پیش آیا جہاں ایک 25 سالہ ٹیلور انٹونی مازانٹی نے ایک مسلمان نوجوان پر وحشیانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں اس کے سر اور جسم کے دوسرے حصوں پر گہرے زخم آئے ہیں۔ زخمی نوجوان کو جب اٹھایا گیا تو اس کے منہ سے بھی خون بہہ رہا تھا۔

پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد اس سے تفتیش شروع کردی گئی ہے تاہم فی الحال اس واقعے کے نسلی تصادم یا دہشت گردی سے تعلق کے بارے میں تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

امریکا میں مسلمانوں کی نمائندہ امریکا اسلام تعلقات کونسل [کیر] کی ریاست فلوریڈا کی برانچ کی جانب سے مسلمان شہری پرتشدد کی ایک مختلف رپورٹ دی ہے۔’کیر‘ کا کہنا ہے کہ ایک غیر منافع بخش اسلامی فلاحی تنظیم’ای ، سی ان اے‘ کا ایک ذمہ داربھی نوجوان کے ہمراہ تھا جب ایک نامعلوم شخص نے پہلے اسے گالیاں دیں اور اس کے بعد وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد فرار ہوگیا۔

’کیر‘ کے بیان کے مطابق حملہ آور نے مسلمان شہری کو تشدد کا نشانہ بنانےسے قبل بلند آواز میں کہا کہ مسلمانو کو ہرصورت میں اپنے ملکوں کو واپس چلے جانا چاہیے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والا نوجوان اسلامی مرکز میں اکثر آجاتا رہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں