طیب ایردوآن کا لاکھوں شامی مہاجرین کو ترک شہریت دینے کا اعلان

صدر کے شامی مہاجرین سے خطاب کے بعد سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

صدر رجب طیب ایردوآن نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ترکی میں مقیم شامی مہاجرین کو ملک کی شہریت دی جاسکتی ہے۔ان کے اس اعلان پر سوشل میڈیا اور مرکزی ذرائع ابلا غ میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

ترک صدر نے ہفتے کی شب شامی سرحد کے نزدیک واقع صوبے کیلیس میں افطار کے موقع پر تقریر میں کہا ہے کہ''میں کچھ اچھی خبروں کا اعلان کرنا چاہتا ہوں۔ہم اپنے شامی دوستوں کو ایک موقع دے کر ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر وہ ترکی کی قومیت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کرسکتے ہیں''۔

صدر ایردوآن نے کہا کہ وزارت داخلہ شہریت کے حصول کے لیے طریق کار کا اعلان کرے گی۔تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ترکی میں مقیم تمام ستائیس لاکھ شامی مہاجرین شہریت کے حصول کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اوراس کی اہلیت کا معیار کیا ہوگا۔

انھوں نے کیلیس میں شامی مہاجرین کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم آپ کو اپنے بھائی اور بہن سمجھتے ہیں۔آپ اپنے مادر وطن سے دور نہیں ہیں بلکہ اپنے گھروں اور اپنی سرزمین سے ہی دور ہیں۔ترکی بھی آپ کا وطن ہے''۔

واضح رہے کہ ترکی نے شام میں سنہ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں بے گھر ہوکر آنے والے شامیوں کو مہاجر کا درجہ دینے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ہمارے مہمان ہیں۔ترکی نے مہاجرین کے منتخب گروپ کو کام کے لیے اجازت نامے اور اقامے بھی دے رکھے ہیں۔

ابتدا میں ترکی نے شامی مہاجرین کے لیے کھلے دروازے کی پالیسی اپنائی تھی اور بہت سے ترک شامی مہاجرین کی میزبانی کو اپنے لیے فخر سمجھتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مہاجرین کی ہزاروں کی تعداد میں جوق درجوق آمد کے بعد ترکوں نے ان کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار شروع کردیا اور انھیں وہ اپنے قومی وسائل پر ایک بوجھ سمجھنے لگے تھے۔

کیلیس میں شامی مہاجرین کی تعداد مقامی ترک آبادی سے بڑھ چکی ہے۔ترکی میں عراق میں داعش کی یلغار کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے تین لاکھ سے زیادہ عراقی مہاجرین بھی مقیم ہے۔اس طرح وہ وہ ان دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے تیس لاکھ سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے۔

ترک صدر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک گرما بحث چھڑ گئی ہے اور بہت سے ترکوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ ایک اچھی تجویز ہے۔ایک شہری محمد محمد نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ''شہریت دینے کا انحصار ایک شخص کی خواہش پر نہیں ہونا چاہیے۔اس مقصد کے لیے ہم ایک ریفرینڈم چاہتے ہیں''۔

ٹویٹر پر ہیش ٹیگ ''میں اپنے ملک میں شامی نہیں چاہتا''زیادہ زیر بحث موضوعات میں سے ایک تھا۔تاہم بعض صارفین نے اس کو نسل پرستانہ قرار دے کر اس کی مذمت بھی کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں