.

بین کی مون : اسرائیل کے یہودی آبادکاری کے منصوبے پر کڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کو بسانے کے لیے سیکڑوں مکانوں کی تعمیر کے نئے منصوبے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفین دوجارک نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس سے اسرائیل کے طویل المیعاد ارادوں کے بارے میں جائز سوالات پیدا ہوئے ہیں اور بعض اسرائیلی وزراء کی جانب سے غربِ اردن کو ضم کرنے کے مطالبے کی وجہ سے یہ اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں''۔

بین کی مون نے اس بات پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے گروپ چار کی گذشتہ جمعہ کو رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد اب یہودی آباد کاروں کے لیے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ ،یورپی یونین ،امریکا اور روس پر مشتمل گروپ چار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل یہودی آباد کاروں کے لیے بستیاں بسانے ،فلسطینیوں کی ترقی کا عمل روکنے اور فلسطینیوں کی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کی زمین کے خاص اسرائیل کے لیے استعمال کا سلسلہ بند کردے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں قائم بستیوں میں اس وقت قریبا پانچ لاکھ ستر ہزار اسرائیلی آبادکار رہ رہے ہیں۔

بین کی مون نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ یہودی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔انھوں نے اسرائیلی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ امن اور تنازعے کے حتمی تصفیے کے مفاد میں یہودی آباد کاری کا عمل روک دے اور اس سے متعلق فیصلوں کو واپس لے۔

بعض سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ گروپ چار کی رپورٹ توقع کے مطابق کوئی بہت زیادہ سخت اور تندو تیز الفاظ پر مشتمل نہیں ہے کیونکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ یہ دستاویز نرم ہو گی۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس ،غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔اس نے بعد میں بیت المقدس کو اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا مگر اس اقدام کو امریکا سمیت عالمی برادری تسلیم نہیں کرتی ہے اور ان کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔