.

''سعودی عرب خودکش بم حملوں کے بعد مزید مضبوط اور متحد ہوگا''

سعودی ولی عہد کی مسجد نبوی کے نزدیک خودکش بم حملے میں زخمی اہلکاروں کی عیادت کے موقع پر گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد ،نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نایف نے کہا ہے کہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے نزدیک اور جدہ اور قطیف میں خودکش بم دھماکوں کے بعد ملک مزید مضبوط اور متحد ہوگا۔

وہ منگل کے روز مدینہ منورہ کے ایک اسپتال میں سوموار کو خودکش بم حملے میں زخمی ہونے والے سعودی فوج کے جوانوں کی تیمار داری کے موقع پر گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ جو کوئی بھی مقامات مقدسہ ،مملکت کے شہریوں اور مکینوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو سعودی حکومت اور سکیورٹی فورسز اس کا قلع قمع کردیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ملک کی سکیورٹی اچھی ہے۔وہ بہتری تیاری کی حالت میں ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر سے بہتر ہورہی ہے''۔

قبل ازیں شہزادہ محمد بن نایف نے ساحلی شہر جدہ میں خودکش بم دھماکے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں سے ایک اسپتال میں ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ''سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے حملوں کو ناکام بنانے کے لیے جس دلیری اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے،وہ کوئی حیران کن امر نہیں ہے کیونکہ یہ ملک ،اس کے مقامات مقدسہ اور عوام اسی قسم کے تحفظ اور دفاع کے حق دار ہیں''۔

سعودی ولی عہد نے مزید کہا کہ ''انھوں(سکیورٹی فورسز) نے وہی کیا ہے جو ان کے آباء واجداد کرتے چلے آئے ہیں''۔انھوں نے زخمیوں کو سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ ان کی عیادت ان کے لیے ایک اعزاز ہے۔

ان کا زخمیوں سے مخاطب ہوکر کہنا تھا: '' میں جانتا ہوں،دہشت گردی کی کارروائیوں سے محاذ آراء ہونا اور نمٹنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔میں قبل ازیں اس تجربے سے گزر چکا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ آپ کیا محسوس کرتے ہیں''۔

خودکش بم دھماکوں میں زخمی سعودی سکیورٹی اہلکاروں کے ولی عہد سے گفتگو کے دوران حوصلے بہت بلند تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ صحت یاب ہو کر دوبارہ اپنے فرائض سنبھالنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں پر کھیل کر جدہ اور مدینہ منورہ میں خودکش حملہ آوروں کو ان کے اہداف تک پہنچنے سے روکا تھا اور اس طرح انھیں اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ورنہ اگر وہ اپنے اہداف تک پہنچنے اور وہاں خودکش دھماکے کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو زیادہ جانی نقصان ہوتا۔سعودی حکام کے علاوہ کئی عالمی رہ نماؤں نے بھی سعودی فورسز کے اہلکاروں کی اس دلیرانہ کارکردگی کو سراہا ہے۔