.

"شام میں فوج بھیجنے کی سعودی درخواست پر غور کریں گے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے اعلی ترین سفارتکار جان کیری کی اپنے سعودی ہم منصب وزیر خارجہ عادل الجبیر سے ملاقات میں 'داعش' کی بیخ کنی اور سعودی عرب میں ہونے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات زیر بحث آئے۔

کثیر الاشاعت عرب اخبار 'الشرق الاوسط' نے اپنی حالیہ اشاعت میں امریکی وزیر خارجہ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ عادل الجبیر نے 'داعش' کی بیخ کنی کے لئے فوج کی فراہمی کی درخواست کی۔ اخبار کے مطابق سعودی وزیر خارجہ نے جان کیری سے شام میں عبوری سیاسی نظام کے قیام سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں لیبیا، یمن سمیت متعدد دیگر معاملات جن میں اسرائیل-فلسطین محاذ پر رونما ہونے والے حالیہ واقعات سرفہرست تھے، زیر بحث آئے۔

امریکی وزیر خارجہ کی اپنے سعودی ہم منصب سے منگل کی شب ہونے والی ملاقات پہلے سے طے شدہ نہیں تھی۔ جان کیری نے ملاقات میں سعودی وزیر خارجہ سے سوموار کے روز مملکت میں ہونے والے خودکش بم حملوں میں ہونے والی شہادتوں پر اظہار افسوس کیا۔

منگل کی شب اپنی نیوز کانفرنس کے دوران جان کربی نے واضح کیا کہ 'داعش' کی بیخ کنی کے حوالے سے سعودی کوششوں میں تعاون کے بارے میں تبادلہ خیال کوئی نئی بات نہیں، ہم پہلے بھی اس موضوع پر بات کر چکے ہیں اور یہ گفتگو مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔

جان کربی نے کہا کہ 'داعش' کی بیخ کنی سے متعلق تبادلہ خیال کھلا راز ہے اور شام کی سپورٹ اور اس دہشت گرد گروپ کے خلاف اتحاد میں سعودی عرب کا کردار نہایت اہم ہے۔ اس معاملے پر پہلے بھی سعودی عرب سے بات ہوئی ہے اور حالیہ دور اس سلسلے کا آخری نقطہ نہیں ہے۔ اس کے خلاف سنجیدہ مذاکرات ہوں گے۔

"ہم سعودی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، تاہم اس پر حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ میں فوجی منصوبوں پر کبھی بات نہیں کروں گا۔ ہم نے واضح کیا کہ ملاقات میں سعودی عرب نے فوج فراہمی کی درخواست کی۔ 'داعش' پر دباؤ بڑھانے کے ہم اس معاملے پر تبادلہ خیال جاری رکھیں گے۔"

سعودی عرب کئی ماہ پہلے شام میں زمینی دستے بھیجنے پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔ عرب اتحاد کے ترجمان اور سعودی وزیر دفاع کے مشیر بریگیڈئر احمد العسیری نے امسال فروری میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک شام میں بری فوج کی مداخلت کے لئے تیار ہے۔ اس سے قبل ریاض حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ دہشت گرد تنظیم کی بیخ کنی کے لئے بننے والے بین الاقوامی اتحاد کے فریم ورک میں اپنی بری فوج بھیج سکتا ہے۔