.

ممبئی: ڈاکٹر ذاکرنائیک کے دفتر کا پیشگی اقدام کے تحت پولیس محاصرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے تجارتی شہر ممبئی میں پولیس نے معروف اسلامی اسکالر اور مبلغ ڈاکٹر ذاکرنائیک کے دفتر کا پیشگی حفاظتی اقدام کے تحت محاصرہ کر لیا ہے۔

ممبئی پولیس کے ایک سینیر عہدے دار نے کہا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کو اسلامی ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر کے باہر کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پیشگی اقدام کے تحت تعینات کیا گیا ہے۔ہمیں کسی خطرے سے متعلق اطلاع یا مرکزی حکومت یا ریاست کی جانب سے کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئی تھیں۔

بھارتی پولیس نے یہ اقدام ان اطلاعات کے منظرعام پر آنے کے بعد کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں گذشتہ ہفتے خون کی ہولی کھیلنے والے پانچ مشتبہ جنگجوؤں میں سے ایک ڈاکٹر ذاکرنائیک کی تقاریر سے متاثر ہوا تھا اور وہ انھیں سن کر سخت گیر بنا تھا۔

بنگلہ دیشی اخبار ڈیلی اسٹار نے قبل ازیں ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈھاکا میں گذشتہ جمعے کو بیس غیرملکیوں کو یرغمال بنانے اور انھیں بے دردی سے قتل کرنے والے جنگجوؤں میں سے ایک روحان امتیاز گذشتہ سال فیس بُک پر ایک پروپیگنڈا مہم چلاتا رہا تھا اور اس نے امن ٹی وی پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ایک تقریر کا حوالہ بھی دیا تھا۔

بھارت کے وزیر مملکت برائے داخلہ امور کرن رجیجو نے اسی ہفتے کہا تھا کہ ''ذاکر نائیک کی یہ تقریر ہمارے لیے تشویش کا سبب ہے۔ہماری ایجنسیاں اس پر کام کررہی ہیں لیکن بطور وزیر میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا کہ کیا کارروائی کی جائے گی''۔

درایں اثناء ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ان رپورٹس کو فضول قرار دے کر مسترد کردیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ڈھاکا میں ایک حملہ آور ان سے متاثر ہوا تھا اور اس نے ان کے بیانات سے متاثر ہو کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس خونریز واقعے کو انجام دیا تھا۔

انھوں نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ''انھوں نے اپنی تقریروں میں کبھی دہشت گردی یا بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے کی ترغیب دی ہے اور نہ اس کی حمایت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ محض اس بنا پر ایک شخص کے ہر فعل کو اس مشہور شخصیت سے منسوب نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وہ شخص اس شخصیت کو جانتا تھا۔اگر آپ نے میری گفتگو سنی ہے تو آپ کو اس میں کبھی ایسی چیز نہیں ملے گی کہ میں نے دہشت گردی یا کسی بے گناہ انسان کے قتل کی حمایت کی ہو یا اس سے صرف نظر کیا ہو''۔