.

اتحادیوں کی گولا باری سے 17 یمنی باغی ہلاک

نھم میں شدید جھڑپیں، مزاحمت کاروں کا اسٹرٹیجک چوٹیوں پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب اتحاد میں شامل لڑاکا طیاروں نے تعز کے مغرب میں المخاء کے علاقے میں حوثی ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 17 باغی ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب شہر کے مشرقی، شمالی اور مغربی محاذوں پر انقلابیوں اور قومی فوج کے حمایت یافتہ عوامی مزاحمت کاروں کے درمیان شدید چھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

جھڑپوں کا سلسلہ باغیوں کی جانب سے مزاحمت کاروں اور فوج پر تعز شہر کی ثعبات، الجحملیہ اور بازرعہ کالونیوں میں شدید حملوں کے بعد شروع ہوا۔

مزاحمت کاروں اور سرکاری فوج کے زیر انتظام ائر ڈیفنس نے تعز کے شمالی علاقے کی شارع الاربعین اور عصیفرہ اور الزنوج کالونیوں پر باغیوں کا حملہ بھی ناکام بنا دیا۔

یمنی باغیوں نے تعز کے مشرق اور مغربی علاقے میں رہائشی کالونیوں پر توپخانے اور ھاون راکٹوں سے اندھا دھند گولا باری بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔

دارلحکومت صنعاء کے مشرقی محاذ نھم پر بھی شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ جبل یام پر شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں، جہاں عراقی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے اپنے ٹھکانوں پر باغیوں کے حملے کامیابی سے پس پا کئے ہیں اور ساتھ ہی نھم کے علاقے میں اہم اسٹرٹیجک چوٹیوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق صنعاء کا کنٹرول باغیوں سے چھڑانے کے لئے شروع کئے جانے والے معرکہ کے لئے متعدد تازہ دم دستے مارب گورنری پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔