.

''ایران ''مکمل قوت'' کے ساتھ میزائل پروگرام جاری رکھے گا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اپنی قومی سلامتی کی ضروریات کے مطابق ''مکمل قوت'' کے ساتھ میزائل پروگرام کوجاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ جرمن چانسلر کے تنقیدی ریمارکس مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔

جرمن چانسلر اینجیلا میرکل نے برلن میں جمعرات کو پارلیمان میں ایک تقریر میں کہا تھا کہ ایران کی جانب سے اس سال کے اوائل میں میزائل تجربات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے ہیں اور اس کو کم سے کم آٹھ سال تک جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل میزائلوں کی تیاری پر کام سے باز رہنا چاہیے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان برہام قاسمی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اس کے ردعمل میں کہا ہے کہ میرکل کے ریمارکس تعمیری نہیں تھے اور ان کے (میزائل) پروگرام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

انھوں نے ایران کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل ہیں اور نہ اس مقصد کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ترجمان نے کہا:''ایران اپنے دفاعی منصوبے پر مبنی اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق اپنے میزائل پروگرام کو جاری رکھے گا''۔

ایران نے جمعے کے روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کی ایک رپورٹ کو بھی غیر حقیقت پسندانہ قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔اس خفیہ رپورٹ میں ایران کے میزائل تجربات کو چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ گذشتہ سال جولائی میں طے شدہ جوہری معاہدے کی روح کے منافی قراردیا گیا ہے۔اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر قدغنیں لگا دی ہیں اور اس کے بدلے میں اس پر عاید بین الاقوامی پابندیاں کا خاتمہ ہوا ہے۔

قبل ازیں جرمن انٹیلی جنس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران جرمنی میں جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے کوشاں رہا ہے۔برلن کے ایک ترجمان نے ان انٹیلی جنس رپورٹس کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ایران میں بعض قوتیں جوہری معاہدے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہی ہیں۔

جرمنی کی داخلی سلامتی کی ذمے دار انٹیلی جنس ایجنسی نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نے سال 2015ء کے دوران غیر قانونی طور پر ٹیکنالوجی اور خاص طور پر جوہری شعبے کی ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھی تھیں۔