.

"سعودی حملوں میں ایک سا دھماکا خیز مواد استعمال ہوا"

نائٹروگلائسرین انتہائی خطرناک بے رنگ اور آئیلی مواد ہے: منصور الترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہروں جدہ، قطیف اور مدینہ میں یکے بعد دیگرے گزشتہ ہفتے ہونے والے دھماکوں میں ایک ہی قسم کا دھماکا خیز مواد استعمال ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ اس امر کا انکشاف وزارت داخلہ کے ترجمان نے کیا ہے۔

'العربیہ' نیوز کے برادر ہیڈ لائنز چینل 'الحدث' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل منصور الترکی نے بتایا کہ حملوں میں 'نائٹروگلائسرین' نامی بے رنگ، بھاری اور آئیلی دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

"مدینہ، قطیف اور جدہ میں ہونے والی مجرمانہ سرگرمیوں میں 'نائٹروگلائسرین' نامی مواد ہی استعمال ہوا۔ نیز قطیف اور مدینہ میں ہونے والے حملوں کا وقت بھی ایک ہی تھا، یعنی یہ حملے عین اس وقت کئے گئے جب فرزندان توحید افطار کے بعد نماز مغرب کی تیاری کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ "ہماری تفتیش کے اس مرحلے پر یہ تمام اشارے انتہائی اہم ہیں۔"

منصور الترکی کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام شناخت شدہ حملہ آوروں کے 'داعش' جیسی انتہا پسند تنظیم سے روابط تھے۔ اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں اور اس کے نتائج سے ہم جلد ہی قوم کو آگاہ کریں گے۔