.

تین لاکھ شامی پناہ گزینوں کو ترک شہریت دیئے جانے کی شرائط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے اعلان کی روشنی میں انقرہ کی حکومت نے جلد ہی شامی پناہ گزینوں کو ترکی کی شہریت دینے کے عمل کا مرحلہ وار آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ ترک اخبارات کی رپورٹس کے مطابق ابتدائی طورپر شامی حکومت مالدار اور مختلف شعبوں میں مہارت رکھنے والے شامی پناہ گزینوں کو ترکی کی شہریت دی جائے گی تاکہ انہیں ترکی میں سرمایہ کاری کرنے اور اپنی پیشہ وارانہ مہارت سے ترقی کے عمل میں حصہ لینے کی ترغیب دی جا سکے۔

اخبار’خبر ترک‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے 27 لاکھ شامی پناہ گزینوں میں سے 3 لاکھ پناہ گزینوں کو مرحلہ وار شہریت دینے کا اعلان کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں تیس سے چالیس ہزار پناہ گزینوں کو ترکی کی شہریت دی جائے گی۔

خیال رہے کہ رواں جولائی میں صدر طیب ایردوآن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ شامی پناہ گزینوں کو شہریت دینے پر غور کر رہے ہیں تاہم اس حوالے سے مزید تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔

اخباری رپورٹس کے مطابق شام سے ھجرت کر کے ترکی آنے والے شامی شہریوں کی بھاری اکثریت پہلے ہی ترک سماجی دھارے کا حصہ بن چکی ہے۔ شام اور ترکی کی سرحد پر بنے پناہ گزین کیمپوں میں صرف 10 فی صد مہاجرین قیام پذیر ہیں۔ باقی تمام پناہ گزین ترک معاشرے میں گڈ مڈ ہو چکے ہیں۔ ترکی شامی پناہ گزینوں کے اس اقدام کو خلاف قانون قرار دینے کے بجائے انہیں ’’مہمان‘‘ قرار دیتا ہے۔

انقرہ حکومت کو توقع ہے کہ مالدار شامی پناہ گزینوں کو ترکی کی شہریت دے کر انہیں ترکی میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گی جس کے نتیجے میں یورپ اور مغربی ملکوں کو نقل مکانی کرنے والے مال دار ترک شہری ترکی کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں گے۔ اس طرح ترکی کی معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔

اسی طرح ترک حکومت دوسرے ملکوں کے تارکین وطن کے بجائے شامی ہنرمندوں اور ان کی علمی و فنی صلاحیتوں سے استفادہ کر سکتی ہے۔

ناقدین اور بعض مبصرین شامی پناہ گزینوں کو ترکی کی شہریت دیے جانے کے اعلان کو’سیاسی رشوت‘سے تعبیر کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر ایردوآن شامی پناہ گزینوں کو شہریت دے کراپنا ووٹ بنک بڑھانا چاہتے ہیں۔

خبر ترک کی رپورٹ کے مطابق شہریت حاصل کرنے والے شامی پناہ گزین صرف ایک سال کے بعد انتخابی عمل میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے حالانکہ عمومی قانون یہ ہے کہ کوئی بھی شخص پانچ سال تک ترکی میں قیام کے بعد ہی شہریت کی شہریت کے حصول کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

شامی پناہ گزینوں کو ترکی کی شہریت دیے جانے سے متعلق حکومتی فیصلوں پر عوامی سطح پر بھی سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے ’’شامیوں کے لیے نہیں‘‘ کے عنوان سے ایک مہم چلائی گئی۔

ترک وزارت لیبر نے رواں سال جنوری میں بتایا تھا کہ اس نے شام کے پانچ ہزار 502 شہریوں کو ’ورک پرمٹ‘ جاری کیے ہیں جس کے بعد وہ ملک میں کہیں بھی کوئی کاروبار یا ملازمت کر سکتے ہیں۔

انسانی حقوق کی بعض تنظیموں کا کہنا ہے کہ ترکی نے مزید شامی پناہ گزینوں کو روکنے کے لیے شام سے متصل اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں تاہم انقرہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ سرحدیں بند نہیں کی گئیں۔ پناہ گزینوں کی شام آمد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔