.

جنوبی سوڈان : صدر اور نائب صدر کی فورسز میں شدید لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی سوڈان کے درالحکومت جوبا میں پیر کی صبح صدر سلواکیر کی فورسز اور سلواکیر کے نائب ریاک مشار کی قیادت میں سابق باغیوں کے درمیان بھاری ہتھیاروں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران دارالحکومت کے مختلف حصوں میں ٹینک اور لڑاکا ہیلی کاپٹر پھیل گئے جب کہ توپوں کی گولہ باری کی زوردار آوازیں بھی آتی رہیں۔

عینی شاہدین اور مقامی آبادی نے "انتہائی شدید معرکوں" کی تصدیق کی۔ امریکی سفارت خانے نے بھی "حکومت اور اپوزیشن کی فورسز کے درمیان خطرناک لڑائی" کے بارے میں بتایا۔

عالمی سلامتی کونسل نے اتوار کی رات تاخیر سے جاری ایک بیان میں سرکاری فوج اور اپوزیشن کی مسلح فورسز کے درمیان معرکوں کی مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں جانبین کے سیکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہوگئے۔

سلامتی کونسل نے جنوبی سوڈان کے فریقوں پر زور دیا کہ وہ فائربندی اور گزشتہ سال دستخط کیے جانے والے امن معاہدے کی پاسداری کریں۔

سلامتی کونسل کے تمام پندرہ ارکان کی موافقت سے جاری بیان میں صدر سلواکیر اور نائب صدر ریاک مشار سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اپنی فورسز کو کنٹرول کرنے اور لڑائی کو فوری طور ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔

بیان میں تنازع کے فریقین کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ شہریوں ، اقوام متحدہ کے اہل کار اور اس کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے باز رہیں جو جنگی جرائم کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ارتکاب کرنے والوں کا احتساب اور ان پر پابندیاں بھی عائد ہوں گی۔

ادھر امریکا نے اتوار کے روز جنوبی سوڈان میں جاری معرکوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی جوبا میں اپنے سفارت خانے میں موجود غیربنیادی ملازمین کو ملک چھوڑ دینے کی ہدایت کی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کیربی نے واضح کیا کہ "جوبا میں امریکی شہریوں کو ہنگامی خدمات فراہم کرنے کے حوالے سے امریکی سفارت خانہ بڑی حد تک محدود قدرت رکھتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن حکومت سلواکیر ، مشار اور "ان کے سیاسی اور عسکری حلیفوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ تشدد کے نئے واقعات اور خون ریزی کے بغیر اپنی فورسز کو واپس بلا کر انہیں بیرکوں میں بھیج دیں"۔