سوئس تحقیق: انار کھائیے اور جوانیاں مانیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انار کا استعمال خلیات کے دوبارہ بننے کے عمل کو تیز کرکے بڑھاپے کی جانب سفر کو سست کردیتا ہے۔ یہ بات سوئٹزر لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ایکول پولی ٹیکنیک فیڈرل ڈی لوزانے کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس پھل میں ایسا کیمیکل موجود ہے جو عمر بڑھنے کے اثرات جسم پر مرتب نہیں ہونے دیتا۔ یورولیتھیم اے نامی یہ کیمیکل یا مالیکیول خلیات کے ری سائیکل اور دوبارہ بننے کے عمل کو شروع کرتا ہے۔

تاہم تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ انسانوں کو اس کا فائدہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ان کے معدے میں مناسب مقدار میں بیکٹریا موجود ہوں کیونکہ یہ ننھے جرثومے ہی پھل کے خام جز کو یورولیتھیم اے میں تبدیل کرتے ہیں۔

محققین نے اس مالیکیول کو چوہوں کی غذا میں شامل کیا تو معلوم ہوا کہ ان کی زندگی کی معیاد میں 45 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ اس وقت مختلف یورپی ممالک کے ہسپتالوں میں انسانوں پر بھی اس کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔

محققین کے مطابق ہمارا ماننا ہے کہ اس تحقیق کے ذریعے ہم نے بڑھاپے کی روک تھام کے حوالے سے ایک سنگ میل طے کیا ہے اور انسانی صحت کے لیے ایک بڑا موقع ہمارے سامنے آیا ہے۔

خیال رہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ خلیات کی مرمت اور عضلات کے دوبارہ بننے کا عمل سست ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں متعدد اعضاء کی صحت متاثر ہوتی ہے جبکہ کمزور ہوجاتے ہیں۔

انار اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور پھل ہے جو امراض قلب، سوجن، جوڑوں میں درد جیسے امراض کا خطرہ کم جبکہ یاداشت بہتر بناتا ہے۔ یہ نئی تحقیق طبی جریدے نیچر میں شائع ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں