لیبیا : سرت میں داعش کے محاصرہ زدہ علاقوں پر فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے تحت فورسز نے داعش کے زیر قبضہ سرت شہر کے وسطی حصے پر فضائی حملے کیے ہیں اور توپ خانے سے گولہ باری کی ہے۔

سرت میں داعش کے خلاف لڑنے والی ساحلی شہر مصراتہ سے تعلق رکھنے والی فورسز کے ترجمان رضا عیسیٰ نے منگل کے روز بتایا ہے کہ ''ہماری فورسز نے شہر کے وسطی علاقے غزہ میں داعش کے جنگجوؤں کو فضائیہ اور توپ خانے سے نشانہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے گاڑیوں ،اسلحے کے ڈپوؤں اور کنٹرول رومز کو بھی ہدف بنایا ہے''۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ شہر کے ایک چوراہے کے نزدیک واقع علاقے زعفران میں مارٹر حملے میں مصراتہ فورسز کا ایک جنگجو ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں۔اسی علاقے مِں داعش کے تیرہ جنگجوؤں کی لاشیں بھی ملی تھیں لیکن داعش کے نشانہ بازوں کی فائرنگ سے سرکاری فورسز کے جنگجو پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔

لیبی فورسز نے سرت میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں کا محاصرہ کررکھا ہے اور داعشی جنگجو ان کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے مارٹر گولے فائر کررہے ہیں یا گھات لگا کر ان پر فائرنگ کررہے ہیں۔لیبیا کے سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے آبائی شہر سرت میں اگر داعش شکست سے دوچار ہوجاتے ہیں تو یہ ان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگی۔

لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت کے تحت فورسز نے دو ماہ قبل سرت کو داعش سے بازیاب کرانے کے لیے مہم کا آغاز کیا تھا۔لیبی فورسز کے کمانڈروں کے بہ قول داعش کے جنگجو اب کانفرنس کمپلیکس ،جامعہ اور ایک اسپتال کے نزدیکی علاقے میں رہ گئے ہیں۔لیبی فورسز نے ان دونوں کا محاصرہ کررکھا ہے جبکہ داعش کے جنگجو ان پر گھات لگا کر فائرنگ کررہے ہیں اور انھوں نے بارودی سرنگیں بھی بچھا رکھی ہیں جس کی وجہ سے سرکاری فورسز کی پیش قدمی سست روی کا شکار ہے۔

مصراتہ فورسز دارالحکومت طرابلس میں اقوام متحدہ کی ثالثی کے نتیجے میں قائم ہونے والے وزیراعظم فائزالسراج کی قیادت میں قومی اتحاد کی حکومت کی حمایت کررہی ہیں۔یہ حکومت طرابلس میں فجر لیبیا اور مشرقی شہر طبرق میں قائم وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت کی جگہ لے گی لیکن ابھی تک اس کی تمام ملک میں عمل داری قائم نہیں ہوسکی ہے۔بن غازی اور دوسرے مشرقی شہروں میں سابق جنرل خلیفہ حفتر کے تحت فورسز نے وزیراعظم فائزالسراج کی حکومت کی عمل داری کو تسلیم نہیں کیا ہے اور وہ وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت کے تحت کام کررہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں