’معذرت چاہتا ہوں کیوں کہ میں ابھی بہ قید حیات ہوں‘

تیونسی صدر کا اپنی وفات کی افواہوں پرمزاحیہ تبصرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس کے صدر الباجی قاید السبسی نے سوشل میڈیا پر اپنی وفات کی افواہوں پر مزاحیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سوری کیونکہ میں ابھی زند ہوں‘۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تیونسی صدر گذشتہ ہفتے علیل ہونے کے باعث منظر عام سے غائب رہے جس پر سوشل میڈیا پر ان کی وفات کی خبریں تواتر کے ساتھ آنے لگی تھیں۔ گذشتہ روز ایوان صنعت وتجارت کی چیئرپرسن وداد بوشماوی سے ملاقات کے دوران صدر السبسی نے کہا کہ میری وفات کی افواہیں پھیلا کر مایوسی پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی مگر میں بھی زندہ ہوں۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا بالخصوص ’’فیس بک‘‘ پر صدر الباجی قاید السبسی کی وفات کی خبریں تواتر کے ساتھ آ رہی تھیں۔ بہ ظاہر ایسے لگ رہا تھا کہ یہ سب کچھ ایک منظم مہم کے تحت جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر’وینو الباجی‘ کے عنوان سے مہم جاری رہی ہے۔

مسز بوشماوی اور دیگر مہمانوں سے ملاقات کے دوران صدر السبسی نے کہا کہ ’میں معذرت کرتا ہوں کیونکہ میں ابھی تک زندہ ہوں‘۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وداد بوشماوی نے کہا کہ ہم نے صدر کی وفات کی افواہوں پر کان نہیں دھرے۔ اللہ صدر مملکت کی عمر دراز کرے۔

اس موقع پر صدر الباجی قاید السبسی نے تیونسی معاشرے میں پھیلی سیاسی اور اخلاقی گراوٹ پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تیونس میں انقلاب سے قبل اور اس کے بعد اس قدر اخلاقی اور سیاسی گراوٹ نہیں دیکھی گئی جتنی کہ اس وقت پائی جا رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں صدر السبسی نے کہا کہ میری وفات کی افواہوں کے بعد اندرون ملک اور بیرونی سطح پر مراکش، جرمنی، الجزائر اور فرانس سے متعدد شخصیات نے رابطہ کیا۔

خیال رہے کہ 90 سالہ محمد الباجی بن حسونہ قاید السبسی 26 نومبر 1926ء کو پیدا ہوئے۔ وہ ایک معروف قانون دان اور سیاسی رہ نما کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔۔ تیونس میں جنوری سنہ 2015ء کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں انہوں نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے سابق صدر منصف المرزوقی کے مقابلے میں فتح حاصل کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں