.

اسرائیل یہودی آبادکاری فوری طور پر روک دے: بان کی مون

’توسیع پسندانہ اقدامات عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی شہروں میں غیرقانونی یہودی آباد کاری اور توسیع پسندانہ منصوبوں پر کام فوری طورپر روک دے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا، اقوام متحدہ، روس اور یورپی یونین پر مشتمل گروپ چار کی جانب سے یہودی آباد کاری روکے جانے کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد بھی آباد کاری جاری رکھنا عالمی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

اپنے ایک بیان میں بان کی مون نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ یہودی آباد کاری کا سلسلہ فوری طورپر روک دے۔ ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں گروپ چار کی جانب سے اسرائیل سے یہودی آباد کاری کا سلسلہ روکے جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا مگر تل ابیب نے گروپ چار کے مطالبے کو نظرانداز کرتے ہوئے غیرقانونی یہودی توسیع پسندی کا عمل بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل نے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں 560 اور بیت المقدس میں 240 نئے مکانات کی تعمیر کا اعلان کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ صہیونی ریاست عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے یہودی توسیع پسندی پرمبنی اقدامات تنازع کے دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں اسرائیل پر یہودی آباد کاری کا سلسلہ فوری روکے جانے کا پرزور مطالبہ کرتا ہوں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے فلسطینیوں کے مکانات مسماری کی پالیسی اور گھروں کی تعمیر کے لیے خصوصی حکومتی اجازت ناموں کے حصول کو لازمی قرار دینے کو معصوم فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف قرار دیا۔

بان کی مون کا کہنا تھا کہ بعض انتہا پسند حلقے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن رابطوں کے فقدان سے فائدہ اٹھا کر اپنے مقاصد حاصل کررہے ہیں۔