.

امریکا: دہشت گردی کی رقوم فرضی کمپنیوں میں پوشیدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت مالیات کے ایک سینئر اہل کار نے بتایا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اور منشیات کے گروہوں کی جانب سے اپنی رقوم کو چھپانے اور منی لانڈرنگ کے لیے امریکا میں رجسٹرڈ فرضی کمپنیوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔

وزیر مالیات کے معاون برائے انسداد دہشت گردی ایڈم زوبن کے مطابق "غیرملکی دہشت گردوں، منشیات کے گروہوں ، پابندیوں کا سامنا کرنے نظاموں یا پھر قزاقوں کی جانب سے درپیش ہر خطرے کی چھان بین پر ہمارے تحقیق کار خود کو فرضی امریکی کمپنیوں کے سامنے پاتے ہیں جو رقوم کی روپوشی اور اس کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتی ہیں"۔

پارلیمانی امور سے متعلق جریدے " The Hill " میں پیر کے روز شائع ہونے والے مضمون میں ایڈم زون کا کہنا تھا کہ "یہاں آ کر ان عناصر کا تعاقب موقوف ہو جاتا ہے"۔

امریکا میں بہت سی ریاستوں میں حقیقی ذمہ دار کی شناخت ظاہر کیے بغیر مکمل رازداری کے ساتھ کمپنیوں کے قیام کی اجازت ہے جن کو ہتھیاروں اور منشیات کے اسمگلر استعمال کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ امریکا میں رجسٹرڈ " آف شور کمپنیوں" کو ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کو چکر دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔

امریکی ذمہ دار کا کہنا ہے کہ " امریکی فرضی کمپنیاں افسوس ناک پہلو کی حامل ہیں کیوں کہ یہ کالے دھن کو سفید بنانے کا واحد ذریعہ فراہم کرتی ہیں جس کو سرکاری ایجنسی کی جانب سے مکمل رازداری کی ضمانت حاصل ہوتی ہے"۔

ذمہ دار کے مطابق امریکی کانگریس جس پر ریپبلکنز کا کنٹرول ہے ، واحد ادارہ ہے جو اس خلاء کو پُر کر سکتا ہے۔ وہ اس طرح کہ امریکا میں کمپنی کے اندراج سے مستفید ہونے والے سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اندراج کے وقت اپنی شناخت ظاہر کرے۔

حالیہ چند برسوں یں اس حوالے سے قانونی بلوں کی تجاویز پیش کی گئیں، تاہم امریکی ذمہ دار کے مطابق بارسوخ مراکز کی جانب سے دباؤ کے سبب ان کو ترک کر دیا گیا۔

گزشتہ اپریل کے وسط میں منعقد ہونے والے گروپ 20 کے سربراہ اجلاس میں ہدایت کی گئی تھی کہ فرضی کمپنیوں کے پیچھے چُھپنے والے عناصر کو جاننے کے لیے ذرائع کا سہارا لیا جائے۔