.

ایرانی کردستان میں مسلح کارروائیوں میں غیرمعمولی اضافہ

نامعلوم افراد کا پولیس سینٹر پرحملہ، ایک اہلکار زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے کرد ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ کردستان کے صوبائی دارالحکومت سنندج میں منگل کی صبح نامعلوم مسلح افراد نے ایک پولیس تھانے پر حملہ کیا ہے جس کےنتیجے میں کم سے کم ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے۔

فارسی اور کرد زبانوں میں خبریں جاری کرنے والی مقامی نیوز ایجنسی ’روجی کرد‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ منگل کوعلی الصباح سنندج شہر میں پولیس اسٹیشن نمبر 14 پر اندھا دھند فائرنگ کی۔

خبر رساں ایجنسی نے اپنے نامہ نگارکے حوالے سے بتایا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد پانچ تھی جو فائرنگ کے بعد بہ حفاظت فرار ہوگئے تھے۔ فائرنگ کی زد میں آکر اسرائیلی ملٹری پولیس کا ایک اہلکار زخمی بھی ہوا ہے۔ حملے کے بعد پولیس نے علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دی گئی ہیں۔

کرمانشان میں ایرانی مندوب پر قاتلانہ حملہ

ایران کے کرد اکثریتی صوبہ کرمانشان کے دارالحکومت میں تازہ مسلح کارروائی ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی جب حال ہی میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک ایرانی مندوب پر قاتلانہ حملہ کرکے اسے زخمی کیا گیا۔ حملے میں ایرانی مندوب کے دو ساتھی ہلاک ہوگئے تھے۔

ایرانی وزرات داخلہ کے ترجمان حسن علی امیری نے اس حوالے سے بتایا کہ ایرانی مندوب فلاحت بیشہ[اسلام آباد غرب اور ’دالاھو‘ کے مندوب] پرپانچ نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئے جب کہ ان کے ساتھ قافلے میں شامل دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایرانی مندوب کے ڈرائیور بھی شامل ہیں۔

ایرانی پولیس گردی کے خلاف کردستان میں عام ہڑتال

ایران میں پولیس اور دیگرسیکیورٹی اداروں کی جانب سے صوبہ کردستان کے باشندوں کی بلا جواز گرفتاریوں کے خلاف مقامی آبادی سراپا احتجاج ہے۔ کردستان کی مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کی اپیل پر کل منگل کو عام ہڑتال کی گئی۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی کردستان کے باشندوں کی جانب سے پولیس گردی اور نہتے شہریوں کی گرفتاریوں کے خلاف بہ طور احتجاج شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایرانی رجیم کرد اور دیگر اقوام کو منظم پالیسی کے تحت ہراساں کررہا ہے۔ اندرن ملک غیر فارسی اقوام پر مظالم کے ساتھ ایران پڑوسی ملکوں اور خطے میں مداخلت کی پالیسی پربھی قائم ہے۔

ایرانی حکومت کے مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والی تنظیموں کی جانب سے کل بدھ کو صوبے بھر میں ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔ کردستان کے مختلف شہروں میں پمفلٹس تقسیم کیے گئے ہیں جن میں عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ کل بدھ کو بازار بند رکھیں اور حکومتی مظالم کے خلاف ہڑتال میں حصہ لیں۔

انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے موقع پر شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایک روز کے لیے ہرقسم کی کاروباری سرگرمیاں بند کریں۔ تمام سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین ڈیوٹی پر نہ جائیں۔ تمام شہروں اور دیہاتوں میں پیہہ جام کریں اور پبلک مقامات پر کرد پرچم لہرائیں۔

ایران میں کرد باشندے

ایران میں کرد باشندوں کی تعداد 90 لاکھ کے قریب ہے۔ یوں ترکی کےکردوں کے بعد ایرانی کرد آبادی میں دوسرا بڑا طبقہ شمار کیے جاتے ہیں۔ ایران میں کرد باشندے تین صوبوں کرمانشان[کرمانشاہ] کردستان اور عیلام[ایلام] میں آباد ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی آذربائیجان میں بھی ترکوں اور آذر باشندوں کے ساتھ کرد اقلیت بھی بڑی تعداد میں سکونت پذیر ہیں۔

ایرانی کرد باشندوں کی جانب سے بھی علاحدگی کی تحریک سراٹھاتی رہتی ہے۔ ان کے بنیادی مطالبات میں صوبائی خود مختاری کا مطالبہ شامل ہے۔ ایرانی کردوں کی سب سے بڑی اور نمائندہ تنظیم ’ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی‘ کہلاتی ہے جس کے سربراہ مصظفیٰ ھجری ہیں۔ اس کے علاوہ عبداللہ مہتدی کی کوملہ کادحی، خالد عزیزی کی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی،کردستان فریڈم پارٹی اور ترکی میں سرگرم کردستان ورکز پارٹی[پی کے کے] ایرانی شاخ ’’بیجاک‘‘ کردوں کی نمائندہ جماعتیں قرار دی جاتی ہیں۔