.

ترکی میں فرانسیسی سفارت خانہ اور دو قونصل خانے تاحکم ثانی بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں اپنے سفارت خانے اور استنبول اور ازمیر میں قونصل خانوں کو سکیورٹی وجوہ کی بنا پر تاحکم ثانی بند کردیا ہے۔

فرانسیسی سفارت خانے نے بدھ کے ایک روز ایک بیان میں کہا ہے کہ 14 جولائی کو ہونے والی قومی دن کی تقریب بھی منسوخ کردی گئی ہے۔انقرہ میں سفارت خانے اور استنبول میں قونصل خانے کو بدھ 13 جولائی دوپہر ایک بجے سے بند کیا گیا ہے۔ان دونوں جگہوں کے علاوہ ترکی کے ساحلی شہر ازمیر میں واقع فرانسیسی قونصل خانے میں جمعرات کو باستیل ڈے کی تقریب منعقد ہونا تھی۔

استنبول میں فرانسیسی قونصل میروریل دومیناش نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ان تینوں شہروں میں ہونے والی تقریبات کو سکیورٹی وجوہ کی بنا پر منسوخ کیا گیا ہے اور فرانس ترک حکام سے رابطے میں ہے۔

قبل ازیں استنبول میں قونصل خانے نے ترکی میں مقیم فرانسیسی شہریوں کو ای میل کے ذریعے ایک پیغام بھیجا تھا اور اس میں کہا تھا کہ ترکی میں جمعرات کو منعقد ہونے والی تقریبات کے موقع پر سنگین خطرے سے متعلق اطلاع موصول ہوئی ہے۔اس لیے ترک حکام سے رابطے کے بعد ان تقریبات کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ہائی سکیورٹی الرٹ

ترکی میں 28 جون کو استنبول کے مرکزی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد سے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔اس بم حملے میں سینتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے اور داعش پر اس میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

ترکی کے سرکاری میڈیا کے مطابق اتاترک بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں ملوّث ہونے کے الزام میں سینتیس مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان میں پندرہ ترک شہری اور بائیس غیرملکی ہیں۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ ان مشتبہ افراد میں سابق سوویت ریاستوں سے تعلق رکھنے والے متعدد شہری بھی شامل ہیں۔ان کے علاوہ اسی ہفتے گرفتار کیے افراد میں تین الجزائری ،دو تیونسی اور دو مصری ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران داعش اور کرد باغی ترکی کے بڑے شہروں میں متعدد بم حملے کرچکے ہیں اور فرانس سے پہلے جرمنی اور امریکا بھی سکیورٹی وجوہ کی بنا پر مختصر مدت کے لیے اپنے اپنے سفارت خانے اور قونصل خانے بند کر چکے ہیں۔