.

مراکش: بچوں پر تشدد کرنے والے باپ کو 5 برس قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش میں عدلیہ نے اپنے دو بچوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے والے باپ کو 5 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ مبصرین نے مذکورہ فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ نے مجرم کے خلاف آہنی ہاتھ سے ضرب لگائی ہے۔ مذکورہ مراکشی شہری نے دونوں بچوں کے ساتھ یہ سلوک اپنی بیوی سے انتقام کے طور پر کیا جو ملازمت کے سلسلے میں بیرون ہجرت کر گئی تھی۔

کہانی کا آغاز ماہ رمضان میں اس وقت ہوا جب بچوں کی ماں نے خود کو موصول ہونے والی وڈیو جاری کر دی جس میں اس کا شوہر دونوں بچوں پر تشدد کر رہا ہے۔ یہ واقعہ مراکش کے جنوبی صوبوں کے بڑے شہر العیون میں پیش آیا۔

ایک غیرسرکاری تنظیم نے "العربيہ" نیوز چینل کے نمائندے کو بتایا کہ مذکورہ وڈیو کے منظرعام پر آنے کے فوری بعد تنظیم نے سرکاری استغاثہ سے مجرم باپ کے خلاف قانونی طور پر حرکت میں آنے کا مطالبہ کیا۔

غیرسرکاری تنظیم کے ساتھ عدلیہ کا معاملہ

حملوں اور تشدد کا شکار بچوں کے دفاع کی مخصوص غیر سرکاری تنظیم کے مطالبے کے 3 روز بعد ہی بچوں کے باپ کو گرفتار کر کے اس سے پوچھ گچھ شروع کر دی گئی۔

عدالت کی جانب سے باپ کے خلاف جاری فیصلے میں پانچ برس کی جیل کے علاوہ اسے آزادی کے بعد اپنے بچوں کی قانونی سرپرستی سے بھی محروم کر دیا گیا ہے جب کہ دونوں بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ان کی دادی کے سپرد کردی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی وڈیو کلپ میں (جس کے نامناسب مناظر کی وجہ سے العربیہ نے اس کو نشر نہیں کیا) ، مذکورہ باپ اپنے بچوں کو گالم گلوچ کے ذریعے ڈرا اور سہما رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ بچوں کو سر کے بل ایک بڑے سائز کے پلاسٹک کے ڈرم کے اندر ڈُبکیاں بھی دلوا رہا ہے۔ اس دوران معصوم بچے چلا رہے ہیں مگر جلاد صفت باپ کے دل پر کوئی اثر نہیں ہورہا۔

بیوی کے چھوڑ جانے پر بچوں پر تشدد کیا

مراکش میں وسیع پیمانے پر پھیل جانے والی اس وڈیو میں باپ نے اپنی بیوی کے لیے بھی گالم گلوچ کی جو کہ ایسا لگتا ہے کہ حتمی طور پر اس کو چھوڑ کر بیرون ملک ملازمت کے لیے مراکش سے کوچ کر گئی۔ اس پر باپ نے دونوں بچوں کی ایذا رسانی کا سہارا لیا تاکہ بیوی کو مراکش واپس آنے پر مجبور کر سکے۔

بچوں کے حقوق کے دفاع کی غیرسرکاری تنظیم نے مراکشی حکومت کے سامنے ملک میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالیہ نشان پیش کیے ہیں ! یہ بچے جن کو والدین کی جانب سے تشدد کا سامنا ہے۔ تنظیم نے زیادتی کا شکار بچوں کے حوالے سے مراکش میں خاندانی امور سے متعلق وزارت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہ آنے پر شدید حیرت کا اظہار کیا ہے۔

غیر سرکاری تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کو قانونی طور پر ہر قسم کے تشدد اور جارحانہ کارروائیوں سے تحفظ فراہم کیا جائے جن میں والدین کی جانب سے تشدد اور ایذا رسانی بھی ہے۔