امریکا کا شامی صدر بشارالاسد کا اقتدار بچانے کے لیے نیا منصوبہ

امریکی اتحاد شام میں روس سے مل کر داعش اور النصرۃ محاذ کے خلاف مشترکہ کارروائی کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا روس کو شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ اور داعش کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کے لیے ایک منصوبہ پیش کررہا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی جمعرات کی اشاعت میں اس منصوبے کی اطلاع دی ہے۔امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اس رپورٹ کی تردید نہیں کی ہے لیکن انھوں نے کہا ہے کہ وہ کریملن میں روسی صدر سے اس مجوزہ منصوبے پر بات چیت سے قبل اس کی تفصیل ظاہر نہیں کریں گے۔

جان کیری آج ماسکو پہنچنے والے ہیں جہاں وہ روسی صدر ولادی میر پوتین سے شامی تنازعے اور النصرۃ محاذ اور داعش کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی سے متعلق اس مجوزہ منصوبے پر بات چیت کریں گے اور جمعہ کو روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف سے اس پر تبادلہ خیال کریں گے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ سمجھوتے کے تحت امریکی اور روسی کمانڈر ایک مشترکہ کمانڈ اور کنٹرول سنٹر قائم کریں گے۔اس کے تحت مذکورہ دونوں جنگجو گروپوں کے خلاف فضائی حملوں کو مربوط بنایا جائے گا اور ان میں تیزی لائی جائے گی۔

اس وقت روس کی مسلح افواج شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں مختلف باغی گروپوں کے خلاف کارروائی کررہی ہیں جبکہ امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیارے داعش کے خلاف فضائی حملے کررہے ہیں اور کبھی کبھی النصرۃ محاذ کے جنگجو بھی ان فضائی حملوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

تاہم امریکا اور روس کے درمیان شام میں صدر بشارالاسد کے مخالفین کے خلاف مشترکہ فوجی مہم کے لیے کوئی بھی سمجھوتا متنازعہ قرار پائے گا کیونکہ صدر براک اوباما کے بہت سے ناقدین سمیت بیشتر امریکیوں کے نزدیک یہ دراصل صدر پوتین کی بشارالاسد کے اقتدار کو بچانے کے لیے کوششوں کی خاموش حمایت ہوگی اور ان کے اقتدار کو تسلیم کرنا ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں