.

ایرانی صدر کی نیوکلیئر پروگرام کی جانب واپسی کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ "اگر نیوکلیئر معاہدے میں شریک چھ بڑے ممالک نے اپنی ذمہ داریوں سے انکار کیا تو ہم مختصر وقت میں نیوکلیئر پروگرام کی مطلوبہ سطح تک پہنچ جائیں گے"۔

ایرانی نیوز ایجنسی "تسنيم" کے مطابق روحانی نے یہ بات نیوکلیئر معاہدے کے طے پائے جانے کے ایک سال مکمل ہونے پر کہی۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ " ایران نیوکلیئر معاہدے کے مطابق اپنے وعدوں کی پاسداری کررہا ہے تاہم اگر "5+1" گروپ نے اپنی ذمہ داریوں سے پہلوتہی کا سلسلہ جاری رکھا تو ہم پوری طرح سے تیار ہیں۔ ہمارے پاس ایسی نیوکلیئر صلاحیت ہے جو ہمیں مختصر مدت میں اپنے نیوکلیئر پروگرام کی مطلوبہ سطح تک پہنچانے میں کامیاب کردے گی"۔

ایرانی صدر نے زور دیا کہ " یہ نیوکلیئر معاہدہ تمام ممالک ، امن و استحکام اور عالمی ترقی کے مفاد میں ہے جب کہ اس کی خلاف ورزی سے سب کو نقصان پہنچے گا اور جو اس خلاف ورزی کا آغاز کرنا چاہتا ہے وہ عالمی سطح پر سیاسی خسارے کا حامل ہوگا"۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ 14 جون 2015 لو ایران اور چھ بڑے ممالک کے درمیان طے پایا جانے والا نیوکلیئر معاہدہ منسوخی کے خطرے سے پہلے سے کہیں زیادہ دوچار ہے۔ اس کی وجہ ایران کی جانب سے اپنے بین الاقوامی سطح کے وعدوں کو پورا نہ کرنا ، دہشت گردی کی سپورٹ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھنا اور اسلحے کے حصول بالخصوص اپنے متنازع میزائل پروگرام پر خرچ کی جانے والی رقم میں اضافہ کرنا ہیں۔

امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" کے مطابق اگرچہ تہران نے انی نیوکلیئر تنصیبات کا بڑا حصہ ختم کردیا ہے تاہم وہ ابھی تک شام میں صدر بشار الاسد کی سپورٹ اور عراق میں رسوخ کے حصول کے لیے اپنی فورسز بھیج رہا ہے۔ اب اس نے وہاں پر مارے جانے والے فوجیوں کو ہیرو شمار کر کے ان کو اعزازات سے نوازنا بھی شروع کردیا ہے۔ اس کے علاوہ دور مار کرنے والے میزائل کے تجربوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کی اقوام متحدہ نے بھی مذمت کی ہے۔

معاہدے پر دستخط کے ایک سال گزر جانے کے بعد بھی ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں تخفیف کی رفتار اس سے کہیں کم ہے جس کی زیادہ تر ایرانی توقع کررہے تھے۔ اس کے نتیجے میں نیوکلیئر معاہدے اور صدر حسن روحانی کی حکومت کے لیے عوامی حمایت میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔