.

دو برس قبل داعشی کمانڈر نے فرانسیسیوں کو کچلنے پر زور دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ داعش نتظیم کے ایک نمایاں ترین رہ نما نے تقریبا دو سال قبل اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ فرانس میں گاڑیوں کے ذریعے کچلنے کی کارروائیاں کریں تاکہ (بقول رہ نما) "کافر فرانسیسیوں" کو قتل کیا جاسکے۔ تاہم دنیا کے کسی ملک یا اس کے سیکورٹی اداروں نے اس پیغام کو نہیں سمجھا۔

ستمبر 2014 میں "داعش" تنظیم کے ایک کمانڈر اور تنظیم کے ترجمان ابو محمد العدنانی نے داعش کے حامیوں اور ہمدردوں پر زور دیا تھا کہ وہ "مغربی کفار" جن میں "کافر فرانسیسی" بھی شامل ہیں، ان کے خلاف گاڑیوں کے ذریعے کچل ڈالنے کی کارروائیاں کریں۔ برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کا کہنا ہے کہ یہ اس امر کی جانب اشارہ ہوسکتا ہے کہ 'نيس' میں حملہ کرنے والے شخص نے دو برس اس خون ریز دہشت گرد کارروائی کی تیاری میں گزار دیے جس پر جمعرات کی رات عمل کیا گیا۔

العدنانی نے دنیا بھر میں اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی اور یورپی کفار بالخصوص کینہ پرور فرانسیسیوں اور دیگر کفار جن میں داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کے رکن ممالک کے شہری شامل ہیں۔ ان کو کسی بھی طریقے یا ذریعے سے ہلاک کیا جائے"۔

بیان میں العدنانی کا کہنا تھا کہ "ان کے سروں کو پتھروں سے کچل دو، ان کو چاقوؤں سے ذبح کردو، ان کو اپنی گاڑیوں سے روند ڈالو، ان کو عمارتوں کے اوپر سے پھینک دو، ان کے گلے گھونٹ دو اور ان کو زہر دے ڈالو"۔

داعش تنظیم کے عناصر یا شدت پسند تنظیموں کے امور کے ماہرین اور مبصرین کے درمیان یہ خیال پھیلا ہوا ہے کہ ابوبکر البغدادی کی موت کی صورت میں ابو محمد العدنانی داعش تنظیم کا آئندہ سرغنہ ہوگا۔ العدنانی اس وقت البغدادی کا ایک اہم معاون ہے۔ تاہم رواں سال کی ابتدا میں متعدد رپورٹوں میں یہ بتایا گیا تھا کہ العدنانی عراق کے صوبے الانبار کے قریب فضائی حملے میں شدید زخمی ہوگیا اور یہ بات گردش میں رہی کہ وہ وہاں پر البغدادی کے ہمراہ تھا۔

العدنانی کے مذکورہ پیغام سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں داعش کے خلاف اتحاد میں شریک ممالک کے اندر، غیرمسبوق نوعیت کے ذرائع اور طریقوں کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائیاں دیکھنے میں آسکتی ہیں۔