.

امریکی خفیہ رپورٹ: 9/11 دہشت گردی میں سعودی کردار کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائیٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے کہا ہے کہ خفیہ اداروں کی جانب سے نائن الیون کے واقعات کی تحقیقات پر مبنی 28 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں گیار ستمبر دو ہزار ایک کو امریکا میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ جلد ہی کانگریس کے سامنے پیش کی جائے گی۔

وائیٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ انہوں نے 28 صفحات پر مشتمل رپورٹ کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ نائن الیون میں سعودی عرب کے کردار کی نفی سے متعلق جو بات ہم ایک عرصے سے کہتے چلے آ رہے تھے وہی اس رپورٹ میں بھی تحریر کی گئی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ خفیہ اداروں کی تیار کردہ رپورٹ جلد ہی کانگریس کو ارسال کی جائے گی۔

امریکا میں متعین سعودی عرب کے سفیر عبداللہ بن ترکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سنہ 2002ء سے امریکی محقیق کی ایک ٹیم نائن الیون کے واقعات کی تحقیقات کر رہی تھی۔ تحقیق کاروں میں کئی حکومتی اداروں اور وفاقی تحقیقاتی ادارے’ایف بی آئی‘ کے ماہرین بھی شامل تھے۔

انہوں نے حال ہی میں اٹھائیس صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 9/11 واقعات میں سعودی عرب کا کوئی کردار نہیں ہے۔ نائن الیون کی دہشت گردی میں سعودی حکومت، کوئی سرکاری عہدیدار یا حکومت کی طرف سے ایجنٹ کے طورپر کسی شخص کا کوئی کردار نہیں ہے۔ سعودی حکومت کی طرف سے ان حملوں کی نہ تو حمایت کی گئی اور نہ ہی دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

سعودی سفیر کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں کی رپورٹ کے بعد یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ سعودی عرب کو نائن الیون کی دہشت گردی میں گھسیٹے نے مذموم سازشیں ناکام ہوں گی اور اس حوالے سے شکوک وشبہات کے بادل چھٹ جائیں گے۔