.

باغیوں کو سبق سکھانے کے لیے عوام سڑکوں پر نکلیں: ایردوآن

صدر ایردوآن کی اتاترک ہوائی اڈے کی طرف روانگی کی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں فوج کے ایک گروپ کی جانب سے مسلح بغاوت کےبعد صدر رجب طیب ایردوآن کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے حکمراں جماعت ’جسٹس پارٹی [آق] کے کارکنوں اور عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ باغیوں کو سبق سکھانے کے لیے سڑکوں پر نکلیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترکی میں صورت حال کافی کشیدہ ہے کیونکہ فوج کے دو گروپ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ بم دھماکوں کے ساتھ ساتھ گولیاں چلنے کی اطلاعات ہیں، ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا ہے جب کہ 20 کے قریب پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

ترکی کےسرکاری ٹی وی ’این ٹی وی‘ کے مطابق صدر ایرودآن کو اسکائپ کے ذریعے دو بار دیکھا گیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ایردوآن کا بیان ریکارڈڈ لگتا ہے۔ انہوں نے اسکائپ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’صدر جمہوریہ کی حیثیت سے میں پارٹی کارکنوں اور شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مٹھی بھر باغیوں کو سبق سکھانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں۔

اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق صدر ایردوآن کو استنبول میں اتاترک بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب جاتے دیکھا گیا ہے۔ صدر ایردوآن کا کہنا ہے کہ فوج کے ایک چھوٹے سے گروپ نے بغاوت کی ہے۔ باغیوں کو اپنے کیے کی سزا بھگتنا ہوگی۔

صدر کا مزید کہنا ہے کہ باغی گروپ نے محب وطن فوج کے متوازی بغاوت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے جلد دارالحکومت انقرہ کی طرف پلٹنے کا بھی اعلان کیا۔

بعد ازاں صدر ایردوآن نے این ٹی وی سے بات کرتے ہوئے شہریوں سےسڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی۔

خیال رہے کہ جمعہ کی شام ترکی کی مسلح افواج کے ایک گروپ نے علم بغاوت بلند کرتے ہوئے پارلیمنٹ اور ایوان صدر کا گھیراؤ کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پرکنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ باغی گروپ کی جانب سے ٹی وی پر نشر بیان میں ملک میں مارشل لاء کے نفاذ اور دستور معطل کیے جانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

باغی گروپ کا کہنا ہے کہ حکومتی نظم ونسق اس وقت ایک امن کونسل چلا رہی ہے۔ حالیہ حکومت کو سیکولر نظام کو نقصان پہنچانے کی پاداش میں برطرف کیا گیا ہے۔