.

ترکی: فوجی بغاوت پر عالمی رہنمائوں کا ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی رہنمائوں نے ترکی میں فوج کے ایک گروپ کی جانب سے مارشل لاء نافذ کرکے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ان رہنمائوں میں سے اکثر نے حکومت اور باغی گروپس سے پرسکون اور تحمل آ٘میز رویے رکھنے کی اپیل کی ہے جبکہ امریکا نے رجب طیب ایردوآن اور ان کی منتخب حکومت کا ساتھ دیا ہے۔

امریکا:


امریکی صدر براک اوباما اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ترکی کے تمام افراد کو تشدد اور خونریزی سے دور رہنا چاہئیے ہے۔

دونوں رہنمائوں کا کہنا تھا کہ ترکی کے تمام فریقوں کو ترکی کی منتخب حکومت کا ساتھ دینا چاہئیے ہے۔ دریں اثناء پینٹاگون کا کہنا تھا کہ وہ ترکی میں موجود شہریوں، سیکیورٹی سروس کے ارکان اور ان کے خاندان والوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

جان کیری کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "ترکی میں موجود ہمارے سفارتخانے اور قونصل خانےامریکی شہریوں کو اپ ڈیٹس فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔" انہوں نے ہدایت جاری کی کہ امریکی شہریوں کسی محفوظ جگہ پناہ لیں اور اپنے پیاروں سے مسلسل رابطے میں رہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار اور سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

اقوام متحدہ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ترکی میں امن کے لئے اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق کا کہنا تھا "سیکریٹری جنرل نے ترکی میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھ رہے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ترکی میں حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کی رپورٹ آرہی ہے۔" اس بیان کے تقریبا ایک گھنٹے بعد بان کی مون کی جانب سے بیان میں ترکی میں منتخب حکومت کو اقتدار سونپنے کا مطالبہ سامنے آگیا۔

قطر:


خلیجی ملک قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق قطری حکومت نے ترکی میں فوج کی جانب سے منتخب حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی مذمت کی ہے۔


خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک:

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ترکی میں موجود اپنے شہریوں کو مطالبہ کیا کہ وہ محفوظ اور چوکنا رہیں۔

بحرین کی وزارت خارجہ نےتمام بحرینی شہریوں کو چوکنا رہنے اور محفوظ جگہ پر پناہ لینے کی ہدایت جاری کی اور انہیں باہر نکلنے سے منع کردیا۔

سعودی عرب نے اقتدار پر فوج کے قبضے کی خبر سامنے آنے کے بعد فوری طور پر ترکی سے فلائٹس کی آمدو رفت پر پابندی عاید کردی۔

برطانیہ:

برطانوی وزارت خارجہ کی ترجمان خاتون کے مطابق "ہمیں انقرہ اور استنبول میں ہونے والے واقعات پر تشویش ہے۔ ہمارا سفارتخانہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے برطانوی شہریوں کو احتیاط سے کام لینے اور پبلک مقامات پر جانے سے گریز کی ہدایت کی۔

جرمنی:

جرمنی کی جانب سے بیان جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ایک ترجمان نے جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ترکی میں جمہوری اداروں کی تقریم کا خیال رکھا جائے۔

نیٹو:

نیٹو کے سربراہ نے ترکی میں جمہوری اداروں اور آئین کی تکریم کی جائے۔

یورپی یونین کے عہدیداران ڈونلڈ ٹسک اور جان کلاڈ جنکر نے طیب ایردوآن کی حمایت کی اور اس فوجی بغاوت کے اختتام پر جلد از جلد حالات کے نارمل ہونے کی توقع ظاہر کی۔

جاپان:

جاپانی وزیر اعظم شنزو ایب نے کہا ہے کہ ترکی کی جمہوریت احترام لازمی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا "مجھے امید ہے کہ حالات جلد از جلد معمول پر آجائیں گے۔"