.

ترکی میں فوجی بغاوت: دستور معطل، مارشل لاء نافذ

حکومت کی جانب سے فوجی بغاوت جلد کچل دینے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی مسلح افواج نے جمعہ کی شام بغاوت کرتے ہوئے نظام حکومت سنبھالنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب ترک حکومت کی طرف سے بھی حالات کے اپنے قابو میں ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

مسلح افواج کےایک گروپ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے جمہوری نظام اور انسانی حقوق کے دفاع کی خاطر زمام کار اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ فوجی بیان میں دستور معطل کرنے اور مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

ترک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک کا نظام ایک ’امن کونسل‘ چلا رہی ہے جو شہریوں کی سلامتی کی ضامنت ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ برطرف حکومت نے جمہوری اور سیکولر نظام کو نقصان پہنچایا جس پر اسے ہٹایا گیا ہے۔

قبل ازیں ریڈیو اور ٹی وی پر نشر ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ترکی کے بیرون ملک تعلقات بدستور قائم ہیں۔ فوج کی اولین ترجیح ملک میں قانون کی بالا دستی ہے۔

سرکاری ٹی وی ’ٹی آر ٹی‘ کی جانب سے نشر بیان میں ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے اور تمام ہوئی اڈے بند کردیے گئے ہیں۔

ادھر ترکی کے وزیر اعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوج کے ایک گروپ نے اقتدار پر قبضے کی کوشش کی ہے لیکن اسے جلد ہی اقتدار سے نکال دیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت امور میں فوجی مداخلت کو فوجی بغاوت قرار دیا۔

سرکاری نیوز ایجنسی ’اناطولیہ‘ کی رپورٹ کے مطابق باغیوں نے مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف جنرل خلوصی آکار کو حراست میں لے لیا ہے۔

العربیہ کے ذارئع کے مطابق استنبول میں پولیس جنرل ہیڈ کواٹر میں دھماکہ ہوا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ فوج نے حکمراں جماعت ’’آق‘‘ کے ہیڈ کوارٹر کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔

ترکی کے ایوان صدر کے ذریعے نے ترک قوم کا ساتھ دینے پر زور دیا گیا ہے۔ ترکی کے ’ سی این این‘ کے مطابق صدر اریردوآن محفوظ مقام پر ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ’رائیٹرز‘ کے مطابق استنبول کے ’اتاترک‘ ہوائی اڈے سے پروازیں معطل ہوچکی ہیں۔ وزیراعظم علی یلدرم اور ان کی کابینہ کے بیانات سامنے آئے ہیں جس میں ان کا کہنا ہے کہ حکومت کا تختہ الٹنے والوں کو قیمت چکانا ہوگی۔

ترکی کے اخبارات کے مطابق حکومت مخالف مذہبی رہ نما فتح اللہ گولن کے حامی فوجی افسران نے آرمی ہیڈ کواٹر پرقبضہ کرلیا ہے۔

’رائٹرز‘ نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ دارالحکومت انقرہ میں فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ فوجی ہیلی کاپٹر اور جنگی طیارے بھی فضاء میں مسلسل پرواز کررہے ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق باسفورس بندرگاہ اور پلوں سےگذرنے والی ٹریفک بند کردی گئی ہے۔ انقرہ میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

اوباما کی صورت حال پر نظر

وائیٹ ہاؤس کی جانب سے ترکی میں آنے والی ڈرامائی تبدیلی پر گہری نظر رکھی ہوئے ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما اور ان کے معاونین ترکی میں فوجی انقلاب کی لمحہ بہ لمحہ صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس ان کا کہنا ہے کہ کونسل نے ترکی کی تازہ ترین صورت حال پر صدر اوباما کو بریفنگ دی ہے۔

خون ریزی سے بچنے کا مطالبہ

روسی وزیرخارجہ سیرگی لافروف نے ترکی میں حکومت کے حامیوں اور مخالفین پر زور دیا ہے کہ وہ خونریزی سے گریز کریں۔

اطلاعات ہیں کہ فوجی انقلاب کے بعد سڑکوں پر ہرطرف فوج کی بھاری نفری پھیل گئی ہے جب کہ حکومت کے حامی بھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ کئی مقامات پر حکومت کے حامیوں اور مخالفین کےدرمیان تصادم کی بھی خبریں آ رہی ہیں۔

روسی وزیر خارجہ لافروف نے امریکی ہم منصب جان کیری کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی میں تمام مسائل کا حل دستور پرعمل درآمد میں مضمر ہے۔