.

یمنی حکومت کا وفد امن مذاکرات کی بحالی کے لیے کویت روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل نے ایک ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ یمنی حکومت کا وفد اقوام متحدہ کی ثالثی میں امن مذاکرات میں شرکت کے لیے کویت روانہ ہوگیا ہے۔

یمنی حکام نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اس وقت حوثیوں کے ساتھ امن مذاکرات بحال نہیں کریں گے جب تک وہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کو تسلیم نہیں کر لیتے اور اقوام متحدہ کی پاسداری نہیں کرتے ہیں۔

حوثی وفد نے جمعرات کو یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد سے دارالحکومت صنعا میں ملاقات کی تھی۔اس کے بعد وہ اومان چلا گیا تھا جہاں سے وہ اومان کے ایک طیارے پر مسقط سے کویت کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔

ذرائع نے العربیہ نیوز چینل کو بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے ایلچی نے صنعا میں حوثیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفد سے بات چیت کے بعد صحافیوں سے کوئی گفتگو نہیں کی تھی۔

یمن کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ عبدالملک المخلافی نے گذشتہ ہفتے واضح کیا تھا کہ ''جب تک ضمانتیں نہیں دی جاتی ہیں اور ایک نظام الاوقات طے نہیں کردیا جاتا،اس وقت تک (حوثی باغیوں کے ساتھ )کوئی امن مذاکرات نہیں ہوں گے''۔انھوں نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ضمانتیں ملنے،ڈیڈلائن اور ہادی حکومت کی قانونی حاکمیت قبول کرنے کی صورت میں ہی امن مذاکرات بحال کیے جائیں گے۔

کویت میں حوثی باغیوں اور صدر منصور ہادی کی حکومت کے درمیان 21 اپریل کو اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی ثالثی میں امن مذاکرات شروع ہوئے تھے۔عیدالفطر سے قبل یہ مذاکرات دو ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہے تھے لیکن ان میں بحران کے پائیدار حل کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی تھی اور صرف فریقین کے درمیان قیدیوں کا ہی تبادلہ ہوا تھا۔

ان مذاکرات کے دوران عبدالملک المخلافی کی قیادت میں یمنی وفد گذشتہ سال اپریل میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔اس میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا سے کہا گیا تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دے اور دارالحکومت صنعا سمیت اپنے زیر قبضہ تمام علاقوں کو خالی کردے۔

حوثی باغی اس کے جواب میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی جگہ ایک نئی حکومت کے قیام کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن سرکاری وفد کا یہ موقف رہا ہے کہ منصور ہادی ملک کے منتخب اور جائز صدر ہیں اور ان کی صدارت پر کوئی کلام نہیں ہوسکتا ہے۔ان کی حکومت کو بین الاقوامی ادارے اور عالمی برادری بھی تسلیم کرتی ہے۔